سہیل آفریدی کے خلاف فیصلے کی صورت میں نا اہلی ہو سکتی ہے: وکیل کمیشن

الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور انتخابی عملے کو دھمکیاں دینے کے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیاالیکشن کمیشن کے وکیل خرم شہزاد نے دلائل میں کہا کہ ضمنی انتخاب کیلئے ضلعی انتظامیہ اور افسران الیکشن کمیشن کے ماتحت تھے، الیکشن عملہ کو دھمکانے کا مطلب الیکشن کمیشن کو دھمکانا ہے، عدلیہ نے بھی یہ قرار دیا کہ الیکشن عملہ کا تحفظ کمیشن کی ذمہ داری ہے وکیل کمیشن نے کہا کہ سہیل آفریدی کے خلاف کرپٹ پریکٹسز کی کارروائی ہو سکتی ہے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی رکنیت کو فوری طور پر معطل کیا جا سکتا ہے، سہیل آفریدی کے خلاف فیصلے کی صورت میں نا اہلی ہو سکتی ہے کمیشن میں درخواست گزار بابر نواز کے وکیل سجیل سواتی، الیکشن کمیشن کے وکیل خرم شہزاد اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے دلائل دیے جس کے بعد فیصلہ محفوظ ہوا الیکشن کمیشن کے نوٹس اور بابر نواز کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی۔ سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری اور درخواست گزار بابر نواز کے وکیل سجیل سواتی الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے