انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو مناسب خوراک فراہم نہیں کی جا رہی اور وہاں بھوک کی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی سپریم کورٹ پانچ ماہ قبل جیل حکام کو قیدیوں کے حالات بہتر بنانے کا حکم دے چکی ہے ایسوسی ایشن فار سول رائٹس ان اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ جیلوں میں دانستہ طور پر سخت حالات برقرار رکھے جا رہے ہیںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر اور جنوری کے دوران سامنے آنے والی 13 شکایات میں 27 قیدیوں نے خوراک کی کمی کی نشاندہی کی اور دعویٰ کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود حالات میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی جیلوں میں دانستہ طور پر سخت حالات برقرار رکھے جا رہے ہیں۔ تنظیم نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں تک ریڈ کراس کو رسائی دی جائے اور جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے ادھر اسرائیلی حکومت کا مو¿قف ہے کہ جیلوں کا نظام قانون کے مطابق چلایا جا رہا ہے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جیلوں کا انتظام سخت گیر وزیر اتمار بن گویر کے سپرد کر رکھا ہے، جو ماضی میں قیدیوں کو دی جانے والی سہولتوں کو ختم کرنے کے بیانات دے چکے ہیں۔