قیدیوں کی مستونگ جیل میں رضا کارانہ واپسی نے انتظامیہ کو حیران کر دیا

مستونگ جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں کی واپسی نے جیل حکام کو حیران کر دیا‘ قیدی مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث انڈر ٹرائل اور سزا یافتہ افراد شامل تھے، جن میں دہشت گردی، قتل، منشیات اور دیگر سنگین الزامات کے مقدمات درج تھے تازہ ترین پیش رفت میں فرار ہونے والے 6 قیدیوں نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا اور خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کر دیا ہے دہشت گردوں نے 31 جنوری کو حملوں کے دوران جیل سے 27 قیدیوں کو فرار کروایا تھابلوچستان کے مختلف اضلاع میں کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سمیت مسلح گروپ کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے اور اس دوران مستونگ شہر میں قائم سینٹرل جیل پر بھی شدید حملہ کیا گیا تھاحملہ آوروں نے جیل پر قبضہ کرنے کی کوشش کی عملے کو یرغمال بنایا تالے توڑے اور تقریباً 27 قیدیوں کو فرار کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے نوشکی، مستونگ، کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں تقریباً ایک ہی وقت میں کیے گئے تھے، جن میں پولیس تھانوں، سرکاری دفاتر، بینکوں اور سیکیورٹی فورسز کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا