لندن : نائب صدر پاکستان پریس کلب لندن زین العابدین کے اعزاز میں لندن کے علاقے ایلفرڈ میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صحافتی، سماجی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کے چیف گیسٹ چوہدری طارق محمود باجوہ جبکہ گیسٹ آف آنر چوہدری ریاض پوار تھے۔ تقریب کے خصوصی مہمان تھرک کونسل کے کونسلر قیصر عباس تھے۔تقریب میں پاکستان پریس کلب لندن کی ٹیم نے بھی بھرپور شرکت کی، جن میں صدر چوہدری تبریز اورا، سینئر وائس پریزیڈنٹ سلیم صابری، انفارمیشن سیکرٹری چوہدری قیصر، ایگزیکٹو ممبر سائرہ خان، چیئرپرسن ایونٹ اینڈ پروگرام آرگنائزنگ کمیٹی فریحہ سوری، چیئرپرسن پی آر ڈاکٹر فیصل رحمان اور سینئر صحافی طارق محمود صاحب شامل تھے۔اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دوستوں اور معزز شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں چوہدری خضر، گورایا، شاہد اعوان، ذیشان، راشد، راشد ماہی، میاں سہیل ایڈووکیٹ، چوہدری نوید اکبر، اعجاز احمد، شفقت گجر اور دیگر احباب شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پریس کلب لندن کے عہدیداران اور دیگر معزز مہمانوں نے زین العابدین کو نائب صدر کی نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔کونسلر قیصر عباس نے بھی زین العابدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔تقریب کے چیف گیسٹ چوہدری طارق محمود باجوہ نے اپنے خطاب میں زین العابدین کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا تعلق پرانا ہے اور انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ زین العابدین نے لندن میں مختصر عرصے کے دوران بہترین پبلک ریلیشننگ قائم کی اور ایک بڑا حلقہ احباب بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ اتنے مختصر نوٹس پر دوستوں کے ساتھ ملاقات اور کھانے کا اتنا بہترین انتظام کرنا بھی زین العابدین کی محبت، خلوص اور دوستوں سے تعلق کا مظہر ہے۔تقریب کے دوران فریحہ سوری نے زین العابدین کے اعزاز میں خصوصی نظم بھی پیش کی، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔ اس موقع پر پاکستان پریس کلب لندن کے تمام عہدیداران اور دیگر معزز مہمانوں نے زین العابدین کے لیے اپنے اپنے نیک جذبات اور بہترین خواہشات کا اظہار کیا۔بعد ازاں چوہدری طارق محمود باجوہ اور پاکستان پریس کلب لندن کے تمام عہدیداران نے زین العابدین کو نومینیشن پیپر بھی ہینڈ اوور کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زین العابدین نے کہا کہ وہ صحافت اور سیاست میں نئے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے رول آف آنر اور سرٹیفکیٹ آف میرٹ حاصل کیا، جبکہ گورنر پنجاب کی جانب سے انہیں بیسٹ سٹیزن ایوارڈ بھی دیا گیا۔ وہ چار سال تک اسٹوڈنٹ پولیٹکس میں فعال رہے اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں صدر بھی رہے۔زین العابدین نے کہا کہ صحافت کے میدان میں بھی وہ ایک طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں انہوں نے 70 سے زائد پارلیمنٹیرینز کے انٹرویوز کیے، 500 سے زائد روڈ شوز کیے اور مختلف نوعیت کی ریلیوں اور سیاسی سرگرمیوں کی کوریج کی۔انہوں نے کہا کہ وہ نہ تو سیاست میں نئے ہیں اور نہ ہی صحافت میں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی یہ سرگرمیاں عارضی ہیں یا وہ اس میدان میں ابھی نئے آئے ہیں، وہ یہ بات واضح طور پر جان لیں کہ ہم بہت دیر سے آئے ہیں، لیکن آئے ہیں تو دیرپا رہنے کے لیے آئے ہیں۔زین العابدین نے کہا کہ وہ گزشتہ دس سال سے صحافت اور سیاست سے وابستہ ہیں اور آئندہ بھی مستقل طور پر ان شعبوں سے جڑے رہیں گے۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کے لیے پرتکلف کھانے کا اہتمام کیا گیا، جس سے تمام شرکاء نے لطف اٹھایا۔ اس موقع پر دوستوں اور مہمانوں نے باہمی ملاقات، گفتگو اور خوشگوار ماحول میں بہترین وقت گزارا۔تقریب خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جبکہ شرکاء نے زین العابدین کے لیے ان کی نئی ذمہ داری میں کامیابی، عزت اور مزید ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔