وفاقی وزیر رانا قاسم نون کے اعزاز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) فرانس کے جنرل سیکرٹری رانا محمود علی خان کا عشائیہ

پیرس :پاکستان پارلیمنٹ میں کشمیر کمیٹی کےچیئرمین اور وفاقی وزیر رانا قاسم نون کے اعزاز میں پاکستان مسلم لیگ (ن) فرانس کے سیکرٹری جنرل رانا محمود علی خان کی طرف سے ایک شاندار عشائیے کا اہتمام کیا گیا جس میں مسلم لیگ (ن) فرانس کے صدر میاں محمد حنیف، جنرل سیکرٹری رانا محمود علی خان، سینئر نائب صدر چوہدری محمد حسین، پیٹرن چوہدری تاج دین سکھیرا، راجہ محمد اقبال، چوہدری فضل الہی، ٹریڈ ونگ کے صدر سید خالد جمال شاہ، انفارمیشن سیکرٹری و سابق صدر مسلم لیگ (ن) فرانس آزاد کشمیر راجہ اشفاق حسین، عامر نواب، رانا سیف اللہ، رانا کیبنٹ کے ڈائریکٹر رانا محفوظ، عنصر بیگ، عمیر بیگ، چوہدری شوکت رانجھا، عمیر رانجھا اور دیگر لاتعداد مسلم لیگ کے کارکنوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ فرانس میں راجہ اشفاق حسین کو کشمیر کمیٹی کا فوکل پرسن مقرر کررہا ہوں۔ مسئلہ کشمیر کوفرانس میں اجاگر کرنے اور موجودہ حالات کو کمیونٹی سمیت دیگر لوگوں حقائق سے آگاہ رکھنا انکی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔اس عشائیہ میں پاکستانی کمیونٹی، مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت اور کارکنوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔وفاقی وزیر نے آزاد کشمیر صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے۔ ہم نے کشمیر کیلئے ساری جنگیں لڑی ہیں۔ بھارت کو گزشتہ سال کی جنگی شکست سکون سے رہنے نہیں دے رہی اسی لئے بلوچستان اور آزاد کشمیر میں حالات خراب کررہا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ آزاد کشمیر ہمارے جسم کا حصہ ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو ھم سے جدا نہیں کرسکتی۔ دنیا کے کسی ملک میں فوج، پولیس اور دیگر اداروں پر گالی گلوچ اور حملے برداشت نہیں کئے جاتے۔ عوامی مطالبات پر پہلے بھی ریلیف دیا اور آئندہ بھی دینگے لیکن مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین مقیم پاکستان کے ووٹ کے حق اور نمائندگی کو کسی صورت ختم نہیں کیا جائے گا۔ یہ مقبوضہ کشمیرکے لوگوں کی قربانیوں اور خون کے ساتھ بیوفائی اور غداری ہوگی جو ہرگز نہیں ہوگی۔ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی انتہا ہے جہاں 30 سے 40 سالوں سے کشمیری قائدین جیلوں میں قید ہیں انکی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جعلی ڈومیسائل پر لاکھوں بھارتیوں کو آباد کررہا ہے اور چند ناعاقبت اندیش کشمیری مہاجرین کے ووٹ کے حق اور نمائندگی کے خاتمے کی بات کرکے بھارت منصوبے کی تکمیل کررہے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوگا۔