پاکستان ایک مرتبہ پھر امریکا اور ایران معاہدہ کرانے کے لیے عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

پاکستان ایک مرتبہ پھر امریکا اور ایران معاہدہ کرانے کے لیے عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سفارت کاری اور دورہ ایران کے بعد امریکا و ایران کے درمیان معاہدہ کے امکانات بحال ہوگئے ہیں اور آئندہ چند روز میں دونوں ممالک میں اعلی سطح کے مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک میں مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں ہوسکتے ہیں، اس حوالے سے جلد شیڈول دونوں ممالک سے مشاورت کے بعد باضابطہ طے کیا جائے گا، سفارتی حلقوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ سفارتی عمل اوپن کے بجائے بیک ڈور چینل کے زریعہ ہورہا ہے۔اس حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی کے دو مرتبہ اور پھر فیلڈ مارشل کے دوران ایران سمیت اعلی حکومتی حکام سے ملاقاتوں کے بعد اس بات کا امکان روشن ہوگیا ہے کہ ایران و امریکا کے درمیان مذاکراتی بیھٹک اسلام آباد میں دوبارہ ہوگی۔امکان یے کہ آئندہ چند روز ممکنہ۔طور پر عیدالاضحی کے بعد باضابطہ اعلی وفود کی سطح پر بات چیت ہوگی ۔سفارتی حلقوں کا کہنا یے کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ اس روانڈ میں مذاکراتی عمل مکمل کرلیا جائے۔اگر ضروری ہوا تو مذید نشست کا انعقاد کیا جائے گا، پاکستان کی کوشش ہے کہ مذاکراتی عمل کے باضابطہ آغاز سے قبل معاہدے کے مسودے پر اتفاق کرلیا جائے۔اس حوالے سے تیزی سے پیش رفت ہورہی ہے، سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے کے فائنل روانڈ میں تمام امور طے پاگئے تو دونوں ممالک کے صدور یا اعلی شخصیات معاہدے کے دستخط کی تقریب میں شریک ہوسکتے ہیں۔اس حوالے سے تمام امور کو میڈیا پر نہیں لایا جائے گا۔سفارتی حلقوں نے فیلڈ مارشل کی سفارتی کوششوں کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے، اس حوالے سے ممکنہ طور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکراتی امور کے آپشنز پر کام یا تبدیلی کی جاسکتی یے۔