وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ (KBRT) ریڈ لائن منصوبے کا مسلسل پانچویں اتوار دورہ کیا اور نمائش سے صفوران چورنگی تک تعمیراتی کاموں کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو مکسڈ ٹریفک کوریڈور، نکاسیِ آب اور یوٹیلیٹی شفٹنگ کے کام تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی سطح پر مسلسل نگرانی سے زمینی سطح پر واضح اور مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ نے معائنے کا آغاز داؤد یونیورسٹی گلوب راؤنڈ اباؤٹ سے کیا اور صفوران چورنگی تک سفر کیا۔ انہوں نے کوریڈور پر ٹریفک انتظامات، یوٹیلیٹی پائپ لائنز کی منتقلی اور ڈرینیج کے بنیادی ڈھانچے کا معائنہ بھی کیا۔دورے میں سینیئر وزیر و وزیرِ ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ٹرانسپورٹ محکمے کے حکام، سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنا، ایف ڈبلیو او کے بریگیڈیئر حسنین اور کمانڈر کراچی ایف ڈبلیو او بریگیڈیئر عدنان بھی موجود تھے۔وزیرِ ٹرانسپورٹ شرجیل میمن نے وزیراعلیٰ سندھ کو لاٹ-2 کی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کام تیزی سے جاری ہیں اور جلد مکمل کر کے مکسڈ ٹریفک کے لیے بحال کر دیا جائے گا۔ سی ای او زبیر چنا نے بتایا کہ نمائش سے موسمیات کے کوریڈور پر مکسڈ ٹریفک لینز، ڈیلینیٹر والز اور نکاسیِ آب کے کام بیک وقت جاری ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے پر اب تک 1,950 میٹر مکسڈ ٹریفک لین اسفالٹ بائنڈر کا کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ 2,320 میٹر سب گریڈ اور ایگریگیٹ بیس کی تیاری بھی مکمل ہو چکی ہے۔ مختلف حصوں میں 1,024 میٹر طویل 600 ایم ایم پائپ ڈرین بچھائی جا چکی ہے جبکہ ڈیلینیٹر اور باکس ڈرین کی تعمیر کا بڑا حصہ بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔حکام نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ نمائش سے جیل چورنگی، حسن اسکوائر، نیپا اور موسمیاٹ تک مختلف حصوں میں تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ یوٹیلیٹی چیلنجز اور کے-فور (K-IV) آگمینٹیشن کے جاری کاموں کے باوجود تعمیراتی سرگرمیاں آگے بڑھ رہی ہیں جبکہ پورے کوریڈور پر پائپ ڈرین کا کام مجموعی طور پر 21 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ایس ایس جی سی، کے ڈبلیو ایس سی اور سیوریج لائنوں کے ملاپ والے مقامات پر یوٹیلیٹی منتقلی اور بیک فلنگ جاری ہے جبکہ حسن اسکوائر تا نیپا سیکشن میں کے-فور توسیعی کاموں کے باعث بعض سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ کراچی کے لیے اہم ترین شہری ٹرانسپورٹ منصوبوں میں شامل ہے اور کراچی کے عوام جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے مستحق ہیں، اسی لیے ہر اتوار ذاتی طور پر منصوبے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔انہوں نے تمام انتظامی اداروں اور ٹھیکیداروں کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے جبکہ ضرورت پڑنے پر افرادی قوت اور مشینری میں اضافہ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ٹریفک مینجمنٹ بہتر بنانے، عوامی سفری سہولیات یقینی بنانے اور تعمیراتی مقامات پر حفاظتی اقدامات پر بھی زور دیا۔بریفنگ کے مطابق KBRT ریڈ لائن منصوبے کی لاٹ-2 نمائش چورنگی سے موسمیاٹ تک 12.85 کلومیٹر طویل ہے جہاں 16 اسٹیشنز تعمیر کیے جا رہے ہیں جبکہ لاٹ-1 موسمیاٹ سے ملیر ہالٹ تک 10 کلومیٹر پر مشتمل ہے جس میں 6 اسٹیشنز اور 2 ڈپو شامل ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے ارم اسکوائر کالا بورڈ پر جاری کاموں کا بھی جائزہ لیا اور واٹر بورڈ کو واٹر سپلائی کا والو منتقل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے بی آر ٹی ٹریک، نکاسیِ آب کے نظام اور مکسڈ ٹریفک روڈ کے پیچ ورک کو جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔سید مراد علی شاہ نے کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے لاٹ-1 کا دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے ایئرپورٹ سگنل / ملیر ہالٹ سے موسمیات (صفورا) تک جاری ترقیاتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا۔دورے کے دوران حکام نے وزیراعلیٰ کو لاٹ-1 پر جاری پیشرفت سے متعلق بریفنگ دی۔مراد علی شاہ نے منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبہ بروقت مکمل کرنے کی تاکید کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے تعمیراتی معیار اور ٹریفک مینجمنٹ بہتر رکھنے پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل سے شہریوں کو جدید، تیز اور محفوظ سفری سہولت میسر آئے گی۔سید مراد علی شاہ نے شاہراہِ بھٹو کا دورہ کیا اور شاہ فیصل ٹول پلازہ پر ایک غیر رسمی اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کمشنر کراچی حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان، ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ، ڈی آئی جی ایسٹ زون اور متعلقہ ایس ایس پیز شریک تھے۔ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے وزیراعلیٰ سندھ کو شاہراہِ بھٹو کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔وزیراعلیٰ سندھ نے شاہراہِ بھٹو پر چوبیس گھنٹے موثر پولیس پیٹرولنگ یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ شاہراہِ بھٹو پر ہر وقت موثر پیٹرولنگ نظر آئے۔مراد علی شاہ نے ہر انٹرچینج پر پولیس چیک پوسٹس قائم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے موٹر سائیکلوں کے شاہراہِ بھٹو پر داخلے پر سخت پابندی یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ غلط سمت ڈرائیونگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے ٹریفک پولیس کو شاہراہِ بھٹو پر ای چالان سسٹم فوری فعال کرنے کی ہدایت بھی کی۔وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق شاہراہِ بھٹو پر اسپیڈ لمٹ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے اور اسپیڈ لمٹ و سیٹ بیلٹ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت اور ٹریفک نظم و ضبط حکومت کی اولین ترجیح ہے۔