سپریم کورٹ نے بیٹے کو زہر دے کر قتل کرنےوالے والد کو بری کر دیا

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی، سپریم کورٹ نے ملزم کو فوری رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ چشم دید گواہان کا بیان تضادات سے بھرپور اور غیر فطری ہے، گواہان نے موقع پر موجود ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی وہ اتفاقیہ گواہ ہیں بچے کے لباس کے رنگ سے متعلق ڈاکٹر اور گواہوں کے بیانات میں سنگین تضاد پایا گیا، گواہوں کا کمرے کی تلاشی نہ لینا یا برتن چیک نہ کرنا ان کی موجودگی کو مشکوک بناتا ہے تحریری فیصلے کے مطابق ایک باپ کا اپنے ہی کمسن بیٹے کو زہر دینا انسانی فطرت اور رویے کے خلاف ہے استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ باپ نے بیٹے کو قتل کیوں کرنا تھا گھر میں کپاس کی فصل کے لیے کیڑے مار ادویات موجود تھیں، بچہ خود بھی پی سکتا تھا میڈیکل رپورٹ کے مطابق 4 سالہ بچہ زہریلی اور پینے والی چیز میں تمیز نہیں کر سکتاسپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں غیر واضح تاخیر سے کیس کی صداقت پر سوالات اٹھے، فوجداری قانون کے مطابق شک کا ایک پہلو بھی ملزم کو بریت کا حقدار بناتا ہے۔