رواں ماہ کے آغاز پر بحرِ ہند میں ایرانی بحریہ کے تین جنگی جہاز ایک بڑے علاقائی بحران کا مرکز بن گئے تھے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان میں سے ایک جہاز امریکی حملے میں تباہ ہو گیا جبکہ باقی دو مختلف ممالک کی بندرگاہوں میں موجود ہیں سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سمندر سے 88 لاشیں نکالی گئیں جبکہ 35 سے زیادہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا متعدد اہلکار اب بھی لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔ جن کے زندہ ملنے کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں ادھر دوسرا ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس لاوان تکنیکی خرابی کے باعث بھارت پہنچ گیا ہے۔ بھارتی حکام نے جہاز کو کوچی کی بندرگاہ میں داخلے کی اجازت دی جہاں اس کی تکنیکی جانچ اور مرمت جاری ہے۔ جہاز پر تقریباً 183 افراد سوار ہیں تیسرا جہاز آئی آر آئی ایس بوشہر نے بھی انجن کی خرابی کے باعث سری لنکا سے مدد طلب کی تھی۔ سری لنکا نے کشیدگی کے باوجود جہاز کو اپنے پانیوں میں داخل ہونے کی اجازت دی اور اسے اپنی نگرانی میں لے لیا۔ اس پر 200 سے افراد سوار تھے چار مارچ کو ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس ڈینا کو سری لنکا کے جنوبی شہر گال کے قریب بین الاقوامی سمندری حدود میں امریکی آبدوز نے ٹارپیڈو حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں جہاز ڈوب گیابھارت اور سری لنکا کے حکام نے جنگ کے خاتمے تک دونوں جہازوں کی حفاظت اور اس پر سوار مسافروں کو طبی امداد کے بعد قیام و طعام کی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔