محمد سلیم نے تھانہ انڈسٹریل اسٹیٹ فیز II پولیس کو اطلاع دی کہ اس کا حقیقی بھائی محمد مظہر اقبال پل نہر ساروکی کے قریب فروٹ کی ریڑھی لگاتا ہے۔ وقوعہ کے روز ایک نامعلوم شخص اس کے بھائی کے پاس آیا اور کافی دیر تک فروٹ کی خرید و فروخت کے حوالے سے بات چیت کرتا رہا۔ بعد ازاں ملزم نے واپس جاتے ہوئے محمد مظہر اقبال پر فائرنگ کرکے اسے قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ کرائم سین یونٹ اورپنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ماہرین نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے، جبکہ مقتول کے بھائی محمد سلیم کی مدعیت میں تھانہ انڈسٹریل اسٹیٹ فیز II میں نامعلوم ملزم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ڈی پی او گجرات فیصل شہزاد نے اندھے قتل کی واردات ٹریس کرکے ملزم کی گرفتاری کے لیے ایس ایچ او تھانہ انڈسٹریل اسٹیٹ SI طاہر زمان اور ان کی ٹیم کو خصوصی ٹاسک دیا اور ہدایت کی کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔تفتیشی ٹیم نے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا اور انتہائی قلیل عرصہ میں اندھے قتل کی واردات ٹریس کرکے ملزم فلک شیر کو آلہ قتل اور واردات میں استعمال ہونے والے موٹر سائیکل سمیت گرفتار کرلیا۔
گرفتار ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس کا دوست احمد جو کہ سعودی عرب مقیم ہے نے مجھ سے رابطہ کیا اور بتلایا کہ مقتول اس کی بیوی کے ساتھ مبینہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مزید اپنی بیوی کے ساتھ بھی رابطہ کروا دیا جس کے ساتھ مل کر مقتول کے قتل کا منصوبہ بنایا اور مورخہ 1 اگست 2026کو اسے فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہو گیا ۔ملزم کے انکشاف پر احمد کی بیوی زینت بی بی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ احمد کی بیرون ملک سے گرفتاری کے لیے بھی تحرک جاری ہے ۔