کراچی:عدالت نے 21 سال پرانے فراڈ کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے ہرجانے کی رقم 50 لاکھ سے بڑھا کر 15 کروڑ روپے کردی۔سندھ ہائیکورٹ نے ڈی ایچ اے میں کمرشل پلاٹ کی خریداری میں فراڈ کے 21 برس پرانے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ہرجانے کی رقم 50 لاکھ سے بڑھا کر 15 کروڑ روپے کر دی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 1997 میں بشیر اختر نے پلاٹ کی خریداری کے لیے 43 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔ مکمل ادائیگی کے باوجود پلاٹ دوسرے شخص کے نام منتقل کیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے بشیر اختر کا پے آرڈر معاہدے میں قیمت کے طور پر استعمال ہوا۔عدالت نے کہا کہ پلاٹ کے موجودہ خریدار نے ادائیگی سے متعلق دستاویزی شواہد پیش نہیں کیے۔ جائیداد کی خریداری کے لیے کسی اور کی رقم استعمال کرنے سے خریدار خود کو نیک نیت قرار نہیں دے سکتا۔ مدعی تقریباً 3 دہائیوں تک اپنے سرمایہ اور اس کے فوائد سے محروم رہا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ڈیفنس میں کمرشل پلاٹس کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مدعی کو اصل رقم یا معمولی ہرجانے کی ادائیگی سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔ رئیل اسٹیٹ کمپنی اور موجودہ خریدار مشترکہ طور پر ہرجانے کی رقم ادا کریں گے۔ ہرجانے پر 1998 سے 15 فیصد سالانہ مارک اپ بھی ادا کیا جائے گا۔