صنعا: یمن کے جنوب مغربی صوبے تعز کے علاقے الوزیہ میں ایک بازار پر فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے۔ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ نے حملے کا الزام سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز پر عائد کیا ہے، جبکہ حکومتی حکام نے اس کی ذمہ داری حوثیوں پر ڈال دی ہے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق حوثی وزارتِ صحت کے ترجمان انیس الصباحی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ صوبہ تعز کے علاقے الوزیہ میں واقع بازار کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ صبح تقریباً 7 بجے الحدارہ بازار پر تین فضائی حملے کیے گئے۔یمن میں سعودی حمایت یافتہ فوج اور حوثی گروپ نے اس حملے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔ تعز میں یمنی حکومت سے وابستہ حکام نے حوثیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں کوئی فضائی حملہ نہیں کیا گیا۔صوبائی میڈیا آفس نے بازار پر حملے اور جانی نقصان کی تصدیق تو کی، تاہم ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی۔ بیان میں حوثیوں کے میزائل حملوں، بالخصوص بیلسٹک میزائلوں کے استعمال کو شہریوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ بازاروں اور آبادی والے علاقوں کا تحفظ ضروری ہے۔صوبہ تعز کا بیشتر علاقہ حوثیوں کے کنٹرول میں ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومت اور وہاں موجود حکومتی فورسز سعودی عرب کے حمایت یافتہ اتحاد کے ساتھ ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد بازار پر یہ حملہ حالیہ مہینوں کے مہلک ترین واقعات میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔