Fri, September 18, 2026 7:30 pm

امریکا نے ایرانی حکام کو نیویارک میں ’لگژری شاپنگ‘ نہ کرنے کی وارننگ دے دی

واشنگٹن: امریکا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آنے والے ایرانی حکام کو لگژری اشیا کی خریداری سے خبردار کردیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پیگوٹ نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کو نیویارک کے دورے کے دوران لگژری خریداری کی اجازت نہیں ہوگی۔ٹامی پیگوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ عام ایرانی شہری معاشی مشکلات، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی حکام نیویارک میں خریداری کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانی حکام کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ’لگژری ریٹیل‘ کے لیے اجلاس کا استعمال نہیں کرنے دے گا۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایرانی مشن کے حکام، دورہ کرنے والے ایرانی عہدیداروں اور ان کے زیرِ کفالت افراد پر لگژری اشیا اور بعض ہول سیل کلب ممبرشپس کی خریداری پر پابندی برقرار رہے گی۔ نیویارک کے تاجروں کو بھی ان پابندیوں کی خلاف ورزی سے خبردار کیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکا نے ایران کے ’کور ڈیلیگیشن‘ کو 81 ویں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہائی لیول ہفتے میں شرکت کے لیے ویزے جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی ذمہ داریوں کے تحت کیا گیا تاہم ایرانی وفد کو سفری پابندیوں اور خریداری سے متعلق محدودیتوں کا سامنا ہوگا۔رپورٹس کے مطابق ایرانی وفد میں صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں، جبکہ اس سال وفد کا حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رکھا گیا ہے۔امریکی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان شدید کشیدگی برقرار ہے۔ اس کے باوجود ایرانی قیادت کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دینا اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی ذمہ داریوں اور دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔