Tue, September 8, 2026 10:39 pm

میانمار کے قریب پناہ گزینوں سے بھری دو کشتیاں اُلٹ گئیں، 500 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرمیانمار کے ساحل کے قریب 500 سے زائد افراد کو لے جانے والی دو کشتیاں الٹ گئیں جس کے تمام افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے بتایا کہ جنگ زدہ ملک کے پناہ گزین حفاظت اور بہتر مواقع کی تلاش میں خطرناک سمندری سفر جاری رکھے ہوئےتھے۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن اور اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق، دو جہاز جون کے آخر میں میانمار کی راکھین ریاست سے روانہ ہوئے جن میں زیادہ تر روہنگیا مسافر سوار تھے۔اُن میں مبینہ طور پر کچھ ایسے تھے جنہوں نے بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں پناہ گزین کیمپوں سے سفر کیا تھا۔
اگرچہ واقعات اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی سرکاری طور پر تصدیق ہونا باقی ہے، یو این ایچ سی آر اور آئی او ایم ممکنہ طور پر تباہ کن جانی نقصان پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔ون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اپنی جاری عسکری کارروائی ’نصر 2‘ کے آٹھویں مرحلے کے دوران کویت میں واقع علی السالم ایئر بیس پر مشترکہ میزائل اور ڈرون حملہ کیا۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حملے کے دوران امریکی فوج کے زیر استعمال سی-ریم ریڈار سسٹم اور امریکی فوجیوں کے اجتماع کے ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس دعوے کے حوالے سے کسی آزاد ذریعے سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔آئی آر جی سی نے اپنے بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے کویت کی سرزمین استعمال کی، اور کویتی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک سے امریکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کریں۔دوسری جانب ایرانی فوج نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر خودکش ڈرونز کے ذریعے حملے کیے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی وژن آئی آر آئی بی کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ایرانی فوج کے مطابق یہ حملے امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے۔تاحال امریکا، کویت یا اردن کی جانب سے ان ایرانی دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں بھی کوئی آزادانہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی، خلیجی سلامتی اور علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔