امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے کے لیے ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیںرپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے تقریباً ایک ہزار پاو¿نڈ یورینیم نکالنے کا یہ مشن نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے، جس کے لیے امریکی فوج کو کئی دن تک ایران کے اندر موجود رہنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس آپریشن کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن اسے ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر غور رکھا گیا ہے اخبار کے مطابق یورینیم پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے محدود اور ہدفی فوجی کارروائی جنگ کے دورانیے کو زیادہ طویل نہیں کرے گی، تاہم اس کے خطرات اور نتائج انتہائی حساس ہو سکتے ہیںوائٹ ہاو¿س کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کا کام صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے اور مختلف آپشنز کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس معاملے پر پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ کے ترجمانوں نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران پر دباو¿ بڑھائیں تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرط کے طور پر یورینیم حوالے کرے امریکی حکام کے مطابق اگر ایران مذاکرات کے دوران یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو طاقت کے استعمال کا امکان بھی موجود ہے۔