امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ایک وسیع معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان دعوو¿ں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور گمراہ کن بیانیہ قرار دیا ہے دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ 25 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر مجوزہ حملوں کو عارضی طور پر پانچ دن کے لیے مو¿خر کر دیا ہے اس سے قبل انہوں نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، بصورت دیگر ایرانی پاور پلانٹس کو تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی بعد ازاں اس ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی گئی خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل حملے کیے، جبکہ خلیجی ممالک میں ڈرون اور میزائل حملوں کو متعدد بار ناکام بنایا گیا۔ سعودی عرب نے اپنے مشرقی علاقے کی طرف آنے والے تقریباً 20 ڈرونز کو تباہ کیا، جبکہ کویت اور بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بارہا بجائے گئے ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس کا مو¿قف تبدیل نہیں ہوا، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے ایشیائی ممالک، خصوصاً جنوبی کوریا اور جاپان، اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے آتا ہے لبنان، عراق اور شام میں بھی جھڑپوں میں شدت آ گئی ہے۔ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کیا، جبکہ امریکا نے عراق کے صوبہ الانبار میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ ماہرین کے مطابق عراق اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ایک ثانوی میدان جنگ بن چکا ہے امریکا کے اندر بھی اس جنگ پر دباو¿ بڑھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل اور ایندھن کی قیمتوں کے باعث امریکی معیشت پر دباو¿ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔