جدید مرحلے کے پروسٹیٹ کینسر کے لیے تیار کی گئی نئی دوا کے ابتدائی آزمائشی نتائج کو طبی ماہرین نے ’غیر معمولی‘ قرار دیا ہے یہ جدید علاج دراصل ایک امیونو تھراپی ہے، جسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ یہ جسم کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف متحرک کرے۔ اس علاج نے نہ صرف موجودہ رسولیوں کو سکڑنے میں مدد دی بلکہ ان کی مزید نمو کو روکنے کی بھی صلاحیت دکھائی نئی دوا (جس کا نام VIR-5500 ہے) ایک منفرد ’خفیہ نظام‘ استعمال کرتی ہے جو اسے صرف رسولی تک پہنچنے کے بعد ہی فعال ہونے دیتا ہے، یوں مضر اثرات کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے کینسر کے ماہرین نے ان نتائج کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ روایتی امیونو تھراپیز پروسٹیٹ کینسر میں ماضی میں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہو سکیں۔ اکثر رسولیوں کو نمایاں حد تک کم کرنے میں ناکام رہیں اور مریضوں میں شدید ضمنی اثرات کا سبب بنیں۔