معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل اور سوشل میڈیا شخصیت کاشف ضمیر کی حالیہ ملاقات کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کاشف ضمیر نے مولانا طارق جمیل کو ایک رولیکس گھڑی تحفے میں پیش کی، جسے مولانا نے قبول کر لیا۔ یہ ویڈیو بعد ازاں کاشف ضمیر نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا آغاز ہو گیا۔مولانا طارق جمیل پاکستان کے معروف مذہبی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے بیانات، اصلاحی خطابات اور اسلامی تعلیمات پر مبنی گفتگو مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد میں مقبول ہے۔ وہ شوبز، کاروبار، سیاست اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ شخصیات سے ملاقاتوں کے باعث بھی خبروں میں رہتے ہیں۔تاہم اس تازہ ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد متعدد سوشل میڈیا صارفین نے کاشف ضمیر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ وہ ماضی میں بھی مختلف شخصیات کو مبینہ طور پر نقلی رولیکس گھڑیاں اور سونے کے زیورات تحفے میں دیتے رہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی گھڑی اصل رولیکس کے بجائے اس کی نقل معلوم ہوتی ہے۔کچھ تبصروں میں مولانا طارق جمیل کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ دنیاوی اشیاء اور نمود و نمائش سے اجتناب کا درس دینے والے مذہبی رہنما کی جانب سے ایسے تحائف قبول کرنے پر بحث کی جا سکتی ہے۔ بعض افراد نے طنزیہ انداز میں تحفے میں دی گئی گھڑی کو ’’فولیکس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاشف ضمیر ایک بار پھر متنازع انداز میں توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری جانب متعدد صارفین نے اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ محض ویڈیو کی بنیاد پر گھڑی کے اصل یا نقلی ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کے بجائے حقائق سامنے آنے کا انتظار کیا جانا چاہیے۔وائرل ویڈیو اور اس پر ہونے والی بحث نے ایک بار پھر کاشف ضمیر اور مولانا طارق جمیل کی ملاقات کو سوشل میڈیا کا موضوعِ گفتگو بنا دیا ہے، جبکہ صارفین مختلف زاویوں سے اس معاملے پر اپنی آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔