Thu, September 3, 2026 11:52 pm

پاکستان کا 36 ارب ڈالر توانائی کے قرضوں کی ری فنانسنگ کیلیے ورلڈ بینک سے رجوع

پاکستان نے کثیر جہتی اور دو طرفہ قرض دہندگان کے 36 ارب ڈالر مالیت کے توانائی کے شعبے کے قرضوں کی ری فنانسنگ میں ممکنہ کردار کے لیے ورلڈ بینک سے رجوع کیا ہے۔ یہ وہ قرضے ہیں جو پاکستان نے ماضی میں پاور پراجیکٹس لگانے کیلئے لیے تھے۔

حکومتی ذرائع نے ’’ ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کو بتایا کہ ابتدائی تجویز اس مقصد کے ساتھ تیار کی گئی ہے کہ صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے مہنگے غیر ملکی قرضوں کو نسبتاً سستے کثیر جہتی قرضوں سے بدل دیا جائے۔ اصل زر کی واپسی سمیت قرض کی لاگت بجلی کی قیمت کا حصہ ہے۔ یہ رقم صارفین ادا کرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نے اب تک بین الوزارتی بات چیت کے علاوہ ورلڈ بینک کے ساتھ بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ ورلڈ بینک کے ترجمان نے ’’ ایکسپریس ٹریبیون‘‘ کو تصدیق کی کہ جمعرات کو ہونے والی ایک ملاقات میں وزیر توانائی نے 36 ارب ڈالر توانائی کے قرضے کا ذکر کیا اور پوچھا کہ کیا ترقیاتی شراکت دار مل کر ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ فنانسنگ کے حجم کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی واحد قرض دہندہ 36 ارب ڈالر فراہم نہیں کر سکتا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس جمعرات کو منعقد اجلاس کے دوران مختلف وزارتوں کے خیالات مختلف تھے اور فیصلہ کیا گیا کہ پاور ڈویژن وزارت اقتصادی امور کے ساتھ مشاورت کے بعد تجویز کو حتمی شکل دے گا۔

ابتدائی تجویز کے مطابق حکومت قرض کی واپسی کے لیے 15 سال کی مدت مانگ رہی ہے جس میں تقریباً چار سال کی رعایت (گریس پیریڈ) بھی شامل ہے۔ اس کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو کم کر کے تقریباً 8 سے 9 امریکی سینٹ فی یونٹ تک لانا ہے جس کا مطلب 25 روپے فی یونٹ قیمت بنتا ہے۔ حکومت نے حال ہی میں صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتیں کم کر کے تقریباً 23 روپے فی یونٹ کی ہیں لیکن بلوں کی اصل لاگت 26 روپے فی یونٹ سے زیادہ ہے۔ گھریلو صارفین اب بھی 57 روپے فی یونٹ سے زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں جو ناقابل برداشت ہے۔

ذرائع نے بتایا وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے رواں ہفتے ورلڈ بینک کی کنٹری ہیڈ مس بولورما امگابازار سے ملاقات کی اور اس حوالے سے تعاون مانگا ہے۔ رابطہ کرنے پر ورلڈ بینک کے ترجمان نے کہاوزیر نے شعبے کے قرضوں کے بھاری بوجھ کو ری اسٹرکچر کرنے کے اپنے منصوبے کا ذکر کیا۔ تجویز ابھی تک ہمارے سامنے واضح نہیں ہے اور ہم نے مزید معلومات طلب کی ہیں۔ 

خاص خبریں