اوسلو (نمائندہ خصوصی) کشمیر یکجہتی ڈے کے موقع پر ناروے میں پاکستانی سفارت خانے میں ایک پینل ڈیبیٹ کا اہتمام کیا گیا، جس میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور بھارتی مظالم کو اجاگر کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو مسئلہ کشمیر پر اپنا دوہرا معیار ختم کرنا ہوگا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔پروگرام کی نظامت ناروے کی پارلیمنٹ کے سابق نائب صدر اختر چوہدری نے کی، جبکہ سابق ارکانِ پارلیمنٹ اویند ہوبریکے اور اطہر علی چوہدری، سٹی کونسلر ماہ نور بیگ، سماجی کارکن انعم چوہدری اور سول سوسائٹی کے نمائندگان ڈاکٹر ارشد سلطان اور لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) طاہر ندیم نے بطور پینلسٹس شرکت کی۔ تقریب میں پاکستانی اور کشمیری ڈائسپورا کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی سفیر سعدیہ الطاف قاضی نے پانچ فروری کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے نارویجن سیاسی شخصیات اور پاکستانی نارویجن کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔اس موقع پر آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور کا ویڈیو پیغام بھی دکھایا گیا، جس میں انہوں نے کشمیری عوام کے لیے جاری جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔پینل ڈیبیٹ کے دوران حاضرین کی جانب سے مختلف سوالات کیے گئے، جن کے جواب میں پینلسٹس نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر صورتحال سے آگاہ کیا۔ زیرِ بحث آنے والے اہم موضوعات میں بھارتی فوج کی جانب سے غیر قانونی حراستیں، بے جا ہراسانی، خواتین کے ساتھ زیادتیاں، خوف کے ماحول کے باعث پیدا ہونے والی ذہنی و معاشی مشکلات، مسئلہ کشمیر پر ناروے کا ممکنہ کردار، اور نوجوانوں کی جانب سے تحریک کشمیر میں مؤثر شمولیت شامل تھیں۔ مقررین نے زور دیا کہ نوجوان نسل منظم ہو کر عالمی سطح پر آواز بلند کرے تاکہ ایک خودمختار کشمیر کے حصول کی جدوجہد کو تقویت مل سکے۔تقریب کے اختتام پر پیر سید نعمت علی شاہ بخاری نے کشمیری اور فلسطینی عوام کی آزادی، امن اور انصاف کے لیے خصوصی دعا کروائی، جبکہ کشمیر کے سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود کے درجات کی بلندی کے لیے بھی دعا کی گئی



