ابوظہبی: 15ویں اقوام متحدہ کانگریس برائے انسدادِ جرائم میں پاکستان کا عالمی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور

ابوظہبی:متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر شفقت علی خان نے آج 15ویں اقوام متحدہ کانگریس برائے انسدادِ جرائم میں پاکستان کا قومی بیان پیش کیا۔ کانگریس 26 ستمبر سے یکم اکتوبر 2026 تک ابوظہبی میں جاری ہے۔سفیر شفقت علی خان نے کانگریس کی میزبانی پر متحدہ عرب امارات کو مبارکباد پیش کی اور اس کی جانب سے فراہم کی جانے والی پرتپاک میزبانی اور بہترین انتظامات کو سراہا۔عالمی سطح پر جرائم کے بدلتے ہوئے منظرنامے کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر شفقت علی خان نے کہا کہ سماجی و معاشی عدم مساوات، پسماندگی اور ڈیجیٹل و مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال سے نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں۔ انہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے لیے نئے عزم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی اور قانون کی حکمرانی ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔پاکستان نے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، قومی استعدادِ کار میں اضافے اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مؤثر تکنیکی معاونت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر زور دیا۔ سفیر نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی محفوظ، پائیدار اور ذمہ دارانہ ترقی اور استعمال کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔بین الاقوامی منظم جرائم اور عالمی منشیات کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر شفقت علی خان نے انسدادِ منشیات کے لیے پاکستان کی طویل عرصے سے جاری کوششوں، جن میں منشیات کی بڑی کھیپوں کی ضبطی اور پاکستان کا پوست سے پاک ملک ہونے کا اعزاز شامل ہے، کو اجاگر کیا۔ انہوں نے افغانستان میں افیون کی کاشت اور مصنوعی منشیات کی پیداوار میں ممکنہ اضافے، نیز منشیات اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ اور اس کے علاقائی سلامتی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالیاتی ترسیلات کے خلاف مضبوط بین الاقوامی اقدامات پر زور دیا، جن میں مؤثر اثاثہ جات کی واپسی اور مجرموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کے لیے مؤثر اقدامات شامل ہیں۔سفیر شفقت علی خان نے انسانی اسمگلنگ اور تارکینِ وطن کی غیر قانونی نقل و حمل کے خلاف پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ محفوظ، باقاعدہ اور قابلِ استطاعت ہجرت کے راستے بھی ان چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور اجنبی دشمنی پر مبنی بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفیر نے نفرت انگیز تقاریر کے تدارک، اسلاموفوبیا کے متاثرین کے لیے قانونی تحفظ کو مضبوط بنانے اور باہمی افہام و تفہیم و احترام کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔اقوام متحدہ کانگریس برائے انسدادِ جرائم ، جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف کے حوالے سے اقوام متحدہ کا بنیادی عالمی فورم ہے، جو ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتا ہے اور جرائم کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ممالک اور متعلقہ شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔