Sat, September 19, 2026 11:18 pm

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن پر کارٹل کا الزام ثابت، 6 کروڑ روپے جرمانہ

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی مارکیٹ انٹیلیجنس کے مطابق آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر کارٹل بنانے کا الزام ثابت ہوگیا۔خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے کرایے طے کرنے اور ٹینکرز میں کاروبار تقسیم کرنے پر ایسوسی ایشن کو مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔سی سی پی کے مطابق کرایوں کے اجتماعی تعین پر 3 کروڑ روپے جبکہ پرچی اور باری کے ذریعے کاروبار کی تقسیم پر مزید 3 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ کمیشن نے کرایوں کے اجتماعی تعین اور پرچی و باری کا نظام فوری ختم کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔سی سی پی کے مطابق ڈیزل ایک روپے مہنگا ہونے پر ٹرانسپورٹ کرایہ 0.75 فیصد بڑھانے جبکہ ڈیزل ایک روپے سستا ہونے پر کرایہ صرف 0.5 فیصد کم کرنے کا فارمولا طے تھا۔ اس طرح ڈیزل کی قیمت میں یکساں تبدیلی پر کرایہ بڑھانے کی شرح، کم کرنے کی شرح سے 50 فیصد زیادہ تھی۔ کمیشن کے مطابق 6 سال کے دوران ٹرانسپورٹ کرایوں میں 89 مرتبہ اجتماعی ردوبدل کیا گیا، جن میں 52 مرتبہ اضافہ اور 37 مرتبہ کمی شامل تھی۔سی سی پی کے مطابق رعایتی کرایہ دینے والے ٹینکر مالکان کو بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دی گئی، جبکہ رعایتی کرایہ مانگنے والی ملوں کو خوردنی تیل کی سپلائی روکنے کی دھمکی بھی سامنے آئی۔ ٹینکرز کو کاروبار آزادانہ مسابقت کے بجائے پرچی اور باری کے نظام کے تحت دیا جاتا تھا۔ مخصوص شرط کی خلاف ورزی پر ٹینکر اور مالک دونوں کے لیے الگ الگ 5 لاکھ روپے جرمانہ مقرر تھا۔شوکاز نوٹس کے باوجود اگست 2026 میں 81 مقامات کے لیے نیا کرایہ سرکلر جاری کیا گیا۔ ایک سرکلر میں کراچی سے باہر 81 مقامات تک گھی کی ترسیل کے کرایے مقرر کیے گئے تھے، جبکہ چربی کی کراچی سے باہر 53 اور کراچی کے اندر گھی و چربی کے لیے 18 مقامات کے کرایے بھی طے کیے گئے تھے۔سی سی پی کے مطابق آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے تقریباً 2,362 ٹینکرز اور 1,700 مالکان رجسٹرڈ تھے۔ روزانہ 250 سے 300 ایسوسی ایشن ٹینکرز بندرگاہوں پر آتے تھے، جبکہ این ایل سی کے 50 سے 60 ٹینکرز تھے۔ 2 بڑے کھلاڑیوں کے تقابل میں آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا حصہ تقریباً 83 فیصد بنتا تھا۔کمیشن کے مطابق آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن اور پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے درمیان ٹرانسپورٹ کرایوں کے تعین کا معاہدہ تھا۔ آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی کرایے باہمی معاہدے کے تحت طے ہونے کا اعتراف کیا۔ تاریخیکتابیں دریافت کریںسی سی پی کے مطابق ٹرانسپورٹ کرایوں کا معاہدہ 2011 میں ہوا اور 2022 میں اسے اپ ڈیٹ کیا گیا۔ کمیشن نے تلاشی کے دوران 6 سال کے ریٹ سرکلرز، معاہدے اور کمپیوٹر میں محفوظ ریکارڈ بھی قبضے میں لیا۔سی سی پی کے مطابق کمیشن کے سابقہ فیصلے میں بھی پی وی ایم اے کے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشنز کے ساتھ ٹرانسپورٹ کرایے طے کرنے کے معاہدے سامنے آئے تھے۔ اسی فیصلے میں قیمتوں کے تعین پر پی وی ایم اے کو کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی پر 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا تھا۔سی سی پی کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ لاگت بڑھنے سے گھی اور خوردنی تیل جیسی ضروری اشیا عوام کی پہنچ سے مزید دُور ہوسکتی ہیں۔ کمیشن نے کرایوں کے اجتماعی تعین اور پرچی و باری کے نظام کو فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔