اسلام آباد : پاکستان سنہ 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کے اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کی تیاریاں کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے قومی کوآرڈینیٹر برائے ایس سی او امور، ممتاز سفارتکار سفیر ڈاکٹر محمد فیصل نے 19 اگست 2025 کو وزارت خارجہ اسلام آباد میں رکن ممالک کے سفیروں کو مدعو کر کے اجلاس سے متعلق امور پر مشاورت کی۔ اجلاس میں پاکستان میں تعینات ایس سی او رکن ممالک کے سفیروں، قائم المقام سفیروں اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزارت خارجہ کی جانب سے وسطی ایشیائی ممالک کے ڈیسک کے سربراہ سفیر حسن علی ظہیرم بھی موجود تھے۔اجلاس میں شریک سفیروں میں روس کے سفیر البرٹ پی۔ خوریو، ایران کے سفیر رضا امیری مقدم، قازقستان کے سفیر یرژیان کستافین، بیلاروس کے سفیر آندرے ایرمو لووچ اور ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیئیف شامل تھے۔ جبکہ چین، بھارت، کرغزستان اور تاجکستان کے مشنوں کی نمائندگی قائم المقام سربراہان نے کی۔ ان میں چین کے ناظم الامور ژاؤ لی جیان، بھارت کے ناظم الامور ڈاکٹر ستیش کمار پانڈے، کرغزستان کے ناظم الامور الان بیک توتوئیف اور تاجکستان کے ناظم الامور شریف زادہ یوسف طیر شامل تھے۔ اجلاس میں پاکستان کی سنہ 2027 میں ایس سی او کی صدارت سے متعلق تنظیمی اور انتظامی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سفیر ڈاکٹر محمد فیصل نے شرکاء کو سربراہ اجلاس کے روڈ میپ سے آگاہ کیا اور کامیاب انعقاد کے لیے تعاون کی درخواست کی۔پاکستان اس سے قبل اکتوبر 2024 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے 23 ویں اجلاس کی کامیابی سے میزبانی کر چکا ہے۔ وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ 2027 کے سربراہ اجلاس کے لیے تمام رکن ممالک کو ایس سی او کے قواعد کے مطابق دعوت نامے بھیجے جائیں گے جن میں بھارت بھی شامل ہے۔ کس سطح پر نمائندگی ہوگی اس کا فیصلہ قریباً اجلاس سے قبل متعلقہ حکومتیں کریں گی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایس سی او کے پلیٹ فارم کو علاقائی روابط، تجارتی راہداریوں اور انسداد دہشت گردی میں مشترکہ حکمت عملی کے فروغ کے لیے استعمال کرے گا۔ اس سلسلے میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں مہمانوں کی آمد کے پیش نظر شہری ترقی، سڑکوں کی توسیع اور خوبصورتی کے منصوبوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔ سنہ 2027 کا سربراہ اجلاس پاکستان کی ایس سی او صدارت کا سب سے اہم ایونٹ ہوگا جس میں تنظیم کے 10 رکن ممالک کے سربراہان شریک ہو کر آئندہ سالوں کے لیے تنظیم کی سیاسی اور اسٹریٹیجک سمت کا تعین کریں گے۔