سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں ایک اہم انتباہ سامنے آیا ہے جہاں ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر حملے اب محض بینک اکاو¿نٹس یا ذاتی معلومات کی چوری تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ براہِ راست انسانی زندگیوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں ڈیلائٹ جنوبی ایشیا کے سائبر لیڈر گورو شکلا کے مطابق جدید دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آپریشنل سسٹمز کے درمیان بڑھتا ہوا تعلق مختلف حساس شعبوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جن میں صحت، ٹرانسپورٹ، بجلی اور ہوا بازی جیسے اہم شعبے شامل ہیں گوراو شکلا نے خبردار کیا کہ اگر کسی خودکار یا انٹرنیٹ سے جڑی گاڑی کو دورانِ سفر ہیک کر لیا جائے تو اس کے نتائج جان لیوا ہو سکتے ہیں انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر آپ شاہراہ پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ’کنیکٹڈ کار‘ چلا رہے ہوں اور اچانک گاڑی کا اسٹیرنگ آپ کے کنٹرول سے باہر ہو جائے تو اس وقت آپ کو اپنے بینک بیلنس کی نہیں بلکہ اپنی جان کی فکر ہوگی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سائبر خطرات اب جسمانی خطرات میں بدل رہے ہیںگورو شکلا نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے انٹرنیٹ سے منسلک آلات نے خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اربوں سینسرز کی موجودگی میں ہر فرد مسلسل ڈیجیٹل ماحول سے جڑا ہوا ہے، جس سے ہیکرز کے لیے مواقع بڑھ گئے ہیں انہوں نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اگر یہی ٹیکنالوجی سائبر حملوں میں استعمال ہو تو ان کی رفتار اور شدت کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔