سڈنی: معروف سفرنامہ نگار طارق محمود مرزا کی ساتویں کتاب “تین دیس، ایک دل” کی پُروقار تقریبِ رونمائی

سڈنی:علامہ اقبال اسٹڈی سرکل آسٹریلیا کے زیرِ اہتمام معروف سفرنامہ نگار، محقق اور ادیب طارق محمود مرزا کی ساتویں کتاب تین دیس، ایک دل، کی شاندار تقریبِ رونمائی سڈنی کے ایک مقامی ریستوران میں منعقد ہوئی۔تقریب کا آغاز زہرا مرزا کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض معروف شاعر اور مصور اختر مغل نے نہایت خوبصورتی سے انجام دیے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی پاکستان کے ہائی کمشنر عرفان شوکت تھے، جبکہ پروفیسر راحت منیر (ستارۂ امتیاز) مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ تقریب کی صدارت معروف ادیب ڈاکٹر شبیر حیدر نے کی۔
اس موقع پر قونصل جنرل پاکستان قمر زمان، معروف شاعرہ و ادیبہ ڈاکٹر نگہت نسیم، سماجی رہنما ڈاکٹر خرم کیانی، شاعر و ادیب ریحان علوی، شاعر عارف صادق سمیت آسٹریلیا کی ممتاز ادبی، سماجی اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ادب سے محبت رکھنے والے خواتین و حضرات کی بڑی تعداد بھی تقریب میں موجود تھی، جس سے ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
طارق محمود مرزا کی فیملی نے خصوصی طور پر کینبرا سے تشریف لانے والے ہائی کمشنر عرفان شوکت کو گلدستہ پیش کرکے ان کا خیرمقدم کیا۔
اپنے خطاب میں ہائی کمشنر عرفان شوکت نے تقریب کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی بھی باشعور اور ترقی یافتہ کمیونٹی کی پہچان یہ ہے کہ وہ علم، ادب اور اہلِ قلم کی قدر کرے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس باوقار ادبی تقریب میں شرکت کرکے خوشی ہوئی، جہاں آسٹریلیا میں اردو ادب کی ممتاز شخصیات اور اہلِ علم و دانش کو ایک ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات کمیونٹی کی فکری اور ادبی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اور وہ آئندہ بھی ایسے ادبی پروگراموں میں شرکت کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھیں گے۔ انہوں نے مصنف طارق محمود مرزا کو ان کی نئی کتاب کی اشاعت اور کامیاب تقریبِ رونمائی پر مبارکباد بھی پیش کی۔
مہمانِ اعزاز پروفیسر راحت منیر، صدرِ محفل ڈاکٹر شبیر حیدر، ڈاکٹر نگہت نسیم، ڈاکٹر خرم کیانی، ریحان علوی اور عارف صادق نےاپنے خطابات میں کتاب تین دیس، ایک دل، کے ادبی، فکری اور تحقیقی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور طارق محمود مرزا کی طویل ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقررین نے اس کتاب کو سفرنامہ نگاری میں ایک قابلِ قدر اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سفر کی روداد نہیں بلکہ مختلف معاشروں، تہذیبوں اور انسانی اقدار کا خوبصورت مشاہدہ بھی ہے۔
اپنے خطاب میں مصنف طارق محمود مرزا نے مہمانِ خصوصی، مہمانِ اعزاز، صدرِ محفل، تمام مقررین، معزز مہمانوں اور شرکاء کا دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادب انسانوں اور قوموں کے درمیان محبت، احترام اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کی تیاری کے پس منظر اور اس کے مقاصد پر بھی مختصر روشنی ڈالی۔تقریب خوشگوار، علمی اور ادبی ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے کتاب میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا، مصنف کو مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ طارق محمود مرزا آئندہ بھی اسی معیار کی ادبی تخلیقات قارئین کو پیش کرتے رہیں گے۔