میلان : اوورسیز کی دنیا کے سی ای او اور پاکستان ٹیلی ویژن نیوز اٹلی، یورپ کے بیورو چیف فرقان نیازی نے لندن میں چیئرمین اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن سید قمر رضا شاہ کے ساتھ مبینہ بدتمیزی اور نازیبا زبان کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے، تاہم کسی قومی ادارے کے سربراہ کے ساتھ غیر شائستہ رویہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرقان نیازی نے کہا کہ مسئلۂ کشمیر پاکستانی قوم کے لیے نہایت حساس اور اہم قومی معاملہ ہے۔ اس حوالے سے سوال اٹھانا، اپنی تشویش کا اظہار کرنا اور حکام سے جواب طلب کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن اپنے مؤقف کے اظہار کے لیے شائستگی، دلیل اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج اور بدتہذیبی میں واضح فرق ہے۔ اختلافِ رائے کو مہذب انداز میں سامنے لایا جا سکتا ہے، جبکہ گالم گلوچ اور ذاتی تضحیک کسی بھی صورت آزادیٔ اظہار کا درست استعمال نہیں۔ کسی قومی ادارے کے سربراہ کو سب کے سامنے توہین کا نشانہ بنانا نہ صرف ایک فرد کی تضحیک ہے بلکہ ادارے کے وقار کو بھی متاثر کرتا ہے۔فرقان نیازی نے سید قمر رضا شاہ کی بطور چیئرمین او پی ایف خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے ساتھ رابطے کو مضبوط بنانے، ان کے مسائل سننے اور متعلقہ حکام تک ان کی آواز پہنچانے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ او پی ایف کو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حوالے سے زیادہ فعال اور متحرک بنانے کے لیے سید قمر رضا شاہ کی کاوشیں قابلِ قدر ہیں۔ مختلف ممالک میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ رابطہ کاری اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے سے اوورسیز پاکستانیوں میں ادارے کے کردار کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین او پی ایف کا بنیادی کام بیرونِ ملک پاکستانیوں اور حکومتِ پاکستان کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرنا اور اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل متعلقہ فورمز تک پہنچانا ہے۔ آزاد کشمیر، پنجاب یا ملک کے دیگر حصوں میں پالیسی سازی اور انتظامی فیصلے کرنا چیئرمین او پی ایف کے براہِ راست دائرۂ اختیار میں نہیں آتا، اس لیے ہر معاملے کی ذمہ داری ان پر عائد کرنا مناسب نہیں۔فرقان نیازی نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پاکستان کے سفیر اور ملک کی نمائندگی کرنے والی کمیونٹی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اختلافات اور تحفظات کا اظہار بھی مثبت، مہذب اور مؤثر انداز میں کریں۔ مضبوط مؤقف کے لیے سخت الفاظ یا ذاتی حملوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ دلیل اور حقائق زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سید قمر رضا شاہ کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ توہین آمیز واقعے کی مذمت کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں اختلافِ رائے کو باہمی احترام، تحمل اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی روایت کو فروغ دیا جائے گا۔ قومی اداروں اور ان کے ذمہ داران کے وقار کا احترام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔