گلاسگو :پاکستان قونصلیٹ گلاسگو کے قونصل جنرل رانا ثمر جاوید کے زیر اہتمام لوکل شعراء کے ساتھ مشاعرے کی ایک پروقار تقریب کا انعقاد قونصلیٹ کے کمیونٹی ہال میں کیا گیا جس میں اسکاٹ لینڈ کے مقامی شعراء کے علاوہ کمیونٹی کی چیدہ چیدہ صاحب ذوق شخصیات نے شرکت کی۔ جن میں قونصل جنرل کی اہلیہ جویریہ ثمر جاوید اور راحت زاہد کے علاوہ گلاسگو اور مدرویل سے شاہد فاروق، رانا سہیل، شکیل زاہد، ڈاکٹر اللہ نواز، عامر عام، عاصم منصور، محمد اظہر، زاہد مرزا، مسعود قریشی، عابدہ شیخ، یاسمین علی، فرح ملک، قونصلیٹ اسٹاف رب نواز، سید فیصل، بینش، ذوالفقار حنیف، اکمل ہاشمی، ابرار احمد، سجیل آصف اور ایڈنبرا سے طاہر بشیر، نعیم قریشی، سلیم ارشاد، ڈاکٹر طارق منیر، ڈاکٹر اسلم ضیاء و دیگر شامل ہیں۔
تقریب میں نظامت کے فرائض معروف کمپیئر اور ریڈیو ٹی وی پریزینٹر شکیل زاہد نے ادا کیے۔ تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا گیا جس کے بعد محفل مشاعرہ میں گلاسگو اور ایڈنبرا کے شعراء کے علاوہ پاکستان سے تشریف لائے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اسلم ضیاء نے اپنا خوبصورت کلام پیش کرکے حاضرین محفل کے دل موہ لیے۔ اس کے بعد قونصل جنرل رانا ثمر جاوید نے تمام مہمانوں کا تقریب میں شمولیت پر شکریہ ادا کیا اور حکومت پاکستان کے توسط سے قونصلیٹ کی جانب سے گلاسگو سے راحت زاہد اور ایڈنبرا سے معروف شاعر طاہر بشیر کو ان کی ادبی خدمات پر اعزازی سرٹیفکیٹ سے نوازا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں دونوں شخصیات کو ایک طویل مدت سے ادب کے لیے خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئےکہا کہ یہ دونوں کمیونٹی کے لیے ایک طویل عرصے سے اپنی اپنی تنظیموں”بزم شعر ونغمہ گلاسگو” اور”ادبی ڈیرہ” کے ذریعے جو خدمات انجام دے رہے ہیں وہ قابل ستائش ہے اس قسم کی سرگرمیاں کمیونٹیز کو ایک صحت مند تفریح مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی نشوونما اور مختلف کمیونٹیز کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ اس موقعہ پر انہوں نے راقمہ کی اسکاٹ لینڈ کے شاعر رابرٹ برنس کی شاعری کے اردو ترجمے پر مشتمل حالیہ کتاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا میں واحد ہستی ہیں جنھوں نے اردو میں ترجمہ کیا ہے جو ہمارے لیے بھی نہایت قابل فخر ہے اس سے قبل بیالیس زبانوں میں ترجمہ ہوچکا تھا۔ انہوں نے یہ کارنامہ انجام دے کر پاکستانی اور اسکاٹش کمیونٹی کو قریب لانے اور ایک دوسرے کے ادب کو بہتر طور پر سمجھنے کی بہترین مثال قائم کی ہے۔
طاہر بشیر کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی کاروباری جگہ کے اضافی حصے کو ایک چھوٹے ہال میں ڈھال کر ادب کے لیے مختص کیا جہاں یہ اکثر و بیشتر ادبی تقریبات منعقد کرواتے ہیں ورنہ یہ اس جگہ کو کاروبار کو مزید وسعت دینے کے لیے بھی استعمال کرسکتے تھے، انہوں نے حاضرین کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ آئندہ پاکستان سے کوئ بھی نامور شاعر یا ادبی ہستی برطانیہ تشریف لائیں تو ہم ان کے اعزاز میں بھی اس طرح کی ادبی تقریبات کا اہتمام کریں گے۔
تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی تواضع پرتکلف عشائیے سے کی گئی۔