مصنوعی ذہانت اور روبوٹ ٹیکنالوجی کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے جہاں نئی سہولتوں کے دروازے کھولے ہیں، وہیں انسانی ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ اسی بحث کو اجاگر کرنے کے لیے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں تقریباً 30 روبوٹس نے انوکھا احتجاج کیا اور مصنوعی ذہانت و روبوٹائزیشن کے لیے مزید سخت ضوابط بنانے کا مطالبہ کیا۔یہ مظاہرہ پولینڈ کی وزارتِ ڈیجیٹل امور کے سامنے منعقد کیا گیا، جہاں مختلف اقسام کے روبوٹس نے ہاتھوں میں جھنڈیاں تھام کر مارچ کیا اور مقررہ نعروں کی آوازیں اسپیکروں کے ذریعے نشر کی گئیں۔ مظاہرے میں دو ٹانگوں پر چلنے والے انسان نما روبوٹس کے ساتھ ساتھ چار ٹانگوں والے روبوٹ کتے بھی شریک
مظاہرے میں ’ملازمتوں کا دفاع کرو‘، ’قواعد بنانے کا وقت ہے‘ اور ’انتظار مت کرو، ضوابط بناؤ‘ جیسے نعرے سنائی دیے۔ اس دلچسپ احتجاج نے ایک طرف روبوٹ ٹیکنالوجی کی موجودہ صلاحیتوں کی جانب توجہ دلائی تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر روبوٹس انسانوں کے لیے بنائے گئے کام انجام دینے لگیں تو مستقبل میں روزگار کی صورتِ حال کیا ہوگی۔مظاہرے کا اہتمام ’ڈیموکریٹزم‘ نامی اقدام نے کیا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت اور روبوٹائزیشن کے لیبر مارکیٹ پر اثرات کے بارے میں بحث کو فروغ دینا ہے۔تنظیم کے منتظم گریگورز کولیِش کے مطابق خاص طور پر اس خدشے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ انسان نما روبوٹس اور مصنوعی ذہانت نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی نوعیت کے کاموں میں بھی انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے پر ابھی ردِعمل نہ دیا گیا تو مستقبل قریب میں ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے قوانین اور ضوابط ضروری ہیں جو ملازمین کے لیے حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کریں۔
روبوٹ نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب بھی دیے
مظاہرے کا ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے انسان نما روبوٹ ’Agibot A3‘ نے صحافیوں کے سوالات کا جواب بھی دیا۔ روبوٹ کا کہنا تھا کہ احتجاج میں موجود مشینیں یہ دکھانے کے لیے لائی گئی ہیں کہ روبوٹ ٹیکنالوجی اب محض مستقبل کا تصور نہیں بلکہ عملی حقیقت بن چکی ہے۔منتظمین کا کہنا تھا کہ روبوٹس کو احتجاج میں شامل کرنے کا مقصد ان کی موجودہ صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرنا بھی تھا۔ ان کے مطابق یہ مشینیں خود حرکت کرسکتی ہیں اور ایسے کام انجام دے سکتی ہیں جنہیں ماضی میں صرف انسانوں سے منسلک سمجھا جاتا تھا۔تاہم اس مظاہرے نے ایک دلچسپ سوال بھی چھوڑ دیا کہ پہلے سے ریکارڈ کیے گئے نعروں کو نشر کرنے والا روبوٹ حقیقی معنوں میں احتجاج کر رہا تھا یا انسانوں کے احتجاج کا صرف ایک تکنیکی مظاہرہ پیش کر رہا تھا۔
پولینڈ کے وزیرِ ڈیجیٹل امور بھی مظاہرے میں پہنچ گئے
پولینڈ کے وزیرِ ڈیجیٹل امور کرسٹوف گاکوفسکی نے بھی احتجاج کے مقام کا دورہ کیا اور منتظمین سے ملاقات کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قابو سے باہر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو انسان نما روبوٹس میں شامل کیا گیا اور یہ مشینیں کام کے دوران مسلسل اپنی صلاحیتیں بڑھاتی رہیں تو اس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔وزیر کی موجودگی نے اس مظاہرے کو محض ایک تشہیری سرگرمی کے بجائے مصنوعی ذہانت کی نگرانی اور ضابطہ سازی کے جاری مباحث سے بھی جوڑ دیا۔
پولینڈ میں مصنوعی ذہانت کے قوانین پہلے ہی زیرِ عمل
پولینڈ میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی کا معاملہ پہلے ہی قانون سازی کا حصہ بن چکا ہے۔ گزشتہ جولائی میں صدر کارول ناؤروکی نے یورپی یونین کے مصنوعی ذہانت سے متعلق قانون ’EU AI Act‘ کو ملک میں نافذ کرنے کے لیے قانون کی منظوری دی تھی۔ وارسا میں روبوٹس کا یہ احتجاج اس وقت سامنے آیا ہے جب یورپ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، انسانی ملازمتوں، ٹیکنالوجی کی نگرانی اور محفوظ AI کی ضرورت پر بحث تیزی سے جاری ہے۔ مظاہرے نے اس بحث کو ایک منفرد شکل دی، جہاں انسانوں کے مستقبل سے متعلق خدشات کا اظہار خود روبوٹس کے ذریعے کیا گیا۔