گجرات:سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر جعلی رمضان پیکجز کے نام پر فراڈ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسے پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بارہ ہزار یا بیس ہزار روپے کے رمضان پیکج کے حصول کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کیا جائے۔ شہریوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ایسے کسی بھی لنک پر ہرگز کلک نہ کریں کیونکہ یہ مکمل طور پر جعلی اور فراڈ ہیں۔سائبر ماہرین کے مطابق اس قسم کے مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے صارفین کو سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان لنکس کے ذریعے نہ صرف موبائل فون ہیک ہو سکتا ہے بلکہ صارف کی قیمتی اور حساس معلومات بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ فراڈ عناصر ان لنکس کے ذریعے قومی شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر، بینک اور موبائل والٹ کی تفصیلات حاصل کر لیتے ہیں، جس کے بعد مالی نقصان کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔مزید برآں، ایسے فراڈ لنکس پر کلک کرنے سے واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو سکتا ہے، جس کے بعد متاثرہ شخص کے نام سے دوسروں کو جعلی اور دھوکہ دہی پر مبنی پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔ کئی کیسز میں صارفین کے بینک اکاؤنٹس یا موبائل اکاؤنٹس سے رقوم نکلنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ اس کے علاوہ موبائل فون میں وائرس یا نقصان دہ سافٹ ویئر انسٹال ہو سکتا ہے جو طویل عرصے تک ڈیٹا چوری کرتا رہتا ہے۔اہم ہدایات برائے عوام کسی بھی غیر معروف یا مشکوک لنک پر کلک نہ کریں۔اپنی ذاتی معلومات (شناختی کارڈ نمبر، OTP، بینک تفصیلات) کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ایسے جعلی پیغامات کو فوراً ڈیلیٹ کریں اور اپنے دوستوں و اہلِ خانہ کو بھی آگاہ کریں۔کسی بھی امدادی یا ریلیف پروگرام کی تصدیق صرف مستند ذرائع سے کریں۔یاد رکھیں، حکومت یا کوئی مستند ادارہ امداد کے لیے اس طرح کے غیر محفوظ اور مشکوک لنکس کے ذریعے پیغامات نہیں بھیجتا۔شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ ہوشیاری کا مظاہرہ کریں، افواہوں اور لالچ میں آ کر کسی بھی لنک پر کلک نہ کریں، اور معاشرے کو اس سائبر فراڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے آگاہی کو فروغ دیں۔