Mon, September 14, 2026 7:40 pm

سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ آج منظور ہونے کا امکان

کراچی: سندھ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 آج منظور ہونے کا امکان ہے، جبکہ ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے مجوزہ ترمیمی بل پر سخت اعتراضات کیے ہیں۔سندھ اسمبلی کی 12 رکنی خصوصی کمیٹی اپنی رپورٹ آج جمع کروائے گی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کو ترمیمی بل پر سخت اعتراضات ہیں۔ایم کیو ایم ارکان کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری کی صورت میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ اپوزیشن ارکان کے مطابق ان کی کسی تجویز کو قبول نہیں کیا گیا، جبکہ جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی مخالفت کی ہے۔مجوزہ بل کے تحت میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے اختیارات اور ذمہ داریاں وضع کی جائیں گی، جبکہ بلدیاتی کونسلوں اور صوبائی محکموں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کی بھی تجویز ہے۔تجویز کے مطابق بلدیاتی انتخابات کا عمل کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 روز قبل شروع کرنا لازمی ہوگا۔ نئے منتخب میئر یا چیئرمین کے عہدہ سنبھالنے تک سبکدوش نمائندہ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام جاری رکھے گا۔یونین کونسلز اور یونین کمیٹیوں کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے متعلق شقیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد دو تہائی اکثریت سے منظور ہوسکے گی۔مجوزہ ترمیم کے تحت ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین کو متعلقہ کونسل کا کنوینر مقرر کیا جائے گا۔