کراچی:متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ 28 ویں ترمیم کو پاس ہونا چاہیے ورنہ کراچی وفاق کے حوالے ہو، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے کراچی کی پیٹھ پر چھرا گھونپا، نون لیگ نے کہا کہ وہ ہمارے گورنر سے خوش ہیں، ایک ٹیسوری سب پر بھاری، گورنری سود سمیت واپس لیں گے انہوں نے کہا کہ 2007 میں ایک کراچی ماسٹر پلان بنایا گیا تھا۔ کے ایم سی نے اس ماسٹر پلان کو منظور کرلیا لیکن سندھ حکومت نے کے ایم سی کے ماسٹر پلان کو 2018 کو منظور کیا، لیکن 2018 سے آج تک اس ماسٹر پلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ الٹا اس ماسٹر پلان کی سخت خلاف ورزی ہو رہی ہے سندھ ہائیکورٹ میں کراچی اسٹریجک ڈیویلپمنٹ پلان 2020 کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج انسانی حقوق کی درخواست پر آخری سماعت تھی۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں و حامی اس درخواست کی حمایت میں آئے تھے۔ کراچی کے بیٹے طارق منصور ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کر رکھی ہے فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کی زمینوں کی بندر بانٹ ہوئی ہے، شہر کے ساڑھے 4 کروڑ لوگوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا۔ کراچی کے شہریوں کو حق ہے کہ وہ جانیں زمینوں کی بندر بانٹ کیسے ہوئی انہوں نے کہا کہ اس ماسٹر پلان کے مطابق ایک مثالی ایئرپورٹ بننا تھا جو کہ سپر ہائے وے پر بننا تھا، جہاں آج نجی ہاو¿سنگ سوسائٹی بنی ہوئی ہے۔ وہاں پر دنیا کا مثالی ایئرپورٹ بننا تھا