آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک مزید کم ہوگئی، صرف 4 تجارتی جہاز گزرے

لندن: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں مزید کمی ہوگئی ہے۔رائٹرز کے مطابق جمعرات کو اس اہم سمندری راستے سے صرف 4 کموڈیٹی جہاز گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 9 تھی۔شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے کپلر کے مطابق گزشتہ روز گزرنے والے جہازوں میں دو میڈیم رینج ٹینکرز، ایک کامسارمیکس کارگو جہاز اور ایک ہینڈی سائز جہاز شامل تھا۔یہ تعداد گزشتہ 10 دن کی تقریباً 15 جہازوں کی اوسط کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار ان جہازوں کو شامل نہیں کرتے جنہوں نے شناخت سے بچنے کے لیے اپنے ٹرانسپونڈر بند کیے ہوں۔ اس لیے حقیقی تعداد کچھ زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔کپلر کے مطابق رواں ہفتے اب تک صرف دو بہت بڑے خام تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، جس سے خطے میں بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شامل ہے اور اس کے ذریعے خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک بڑی مقدار میں تیل منتقل کیا جاتا ہے۔بحری ٹریفک میں مسلسل کمی سے عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔