بحیرہ جنوبی چین کے متنازع سمندری علاقے میں چین اور فلپائن کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں جبکہ دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے پر اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ویڈیوزغیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ سیکنڈ تھامس شول کے قریب پیش آیا، جو بحیرہ جنوبی چین کا ایک متنازع علاقہ ہے اور جس پر چین اور فلپائن دونوں اپنا حق جتاتے ہیں۔
فلپائن کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ چینی کوسٹ گارڈ کی ایک کشتی جس میں آٹھ اہلکار سوار تھے، فلپائن کےگراؤنڈ کیے گئے جنگی جہاز کے قریب پہنچی اور وہاں تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔فلپائن کے مطابق جب اس کی بحریہ کی دو کشتیاں چینی اہلکاروں کو علاقے سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تو چینی اہلکاروں نے پرتشدد رویہ اختیار کیا اور ایک فلپائنی اہلکار کے سر پر لکڑی کے ڈنڈے سے وار کیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہو گیا۔ حکام کے مطابق جھڑپ کے دوران فلپائن کی ایک ربڑ بوٹ کو بھی نقصان پہنچا۔دوسری جانب چین نے فلپائن کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے کوسٹ گارڈ اہلکار معمول کی گشت پر تھے، تاہم فلپائن کی دو فوجی کشتیاں تیزی سے ان کے قریب آئیں اور متعدد انتباہات کے باوجود اپنا راستہ تبدیل نہیں کیا۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے اہلکاروں نے صورتحال کو قابو میں رکھنے اور اپنے سمندری حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے، جبکہ کسی بھی غیر ضروری طاقت کے استعمال کی تردید کی۔واضح رہے کہ بحیرہ جنوبی چین دنیا کے اہم ترین تجارتی سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں چین، فلپائن، ویتنام، ملائیشیا، برونائی اور دیگر ممالک کے درمیان سمندری حدود پر طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک اور مثال ہے اور اگر ایسے واقعات کا سفارتی حل نہ نکالا گیا تو مستقبل میں بڑے تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔