بال جھڑنے کے علاج میں پیشرفت، دوا کے تیسرے مرحلے کے ٹرائلز کے حوصلہ افزا نتائج

دنیا کی تقریباً دو فی صد آبادی ایلوپیشیا ایریاٹا نامی بیماری سے متاثر ہے، جس میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے بالوں کی جڑوں پر حملہ کرتا ہے اور شدید بال جھڑنے کا سبب بنتا ہے۔ اس بیماری کا اثر صرف جسمانی نہیں بلکہ متاثرہ افراد کی ذہنی اور نفسیاتی صحت پر بھی پڑ سکتا ہے۔ایلوپیشیا ایریاٹا میں بالوں کے فولیکلز مستقل طور پر تباہ نہیں ہوتے، اس لیے بال دوبارہ اگ سکتے ہیں، تاہم بیماری کے علاج میں سب سے بڑا چیلنج مدافعتی نظام کے اس غلط ردعمل کو روکنا ہے۔ خاص طور پر نوعمر افراد کے لیے مؤثر علاج کے محدود آپشنز موجود ہیں اور دستیاب علاج ہر مریض میں یکساں مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔اب ایک نئی تحقیق میں Upadacitinib نامی سوزش اور جوڑوں کے درد کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا کو ایلوپیشیا ایریاٹا کے ممکنہ علاج کے طور پر آزمایا گیا ہے۔ محققین نے اس حوالے سے بیک وقت دو فیز تھری کلینیکل ٹرائلز کیے۔تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما ڈرماٹولوجی میں شائع ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی محققین کی ٹیم کے مطابق ٹرائلز کے نتائج اس بات کی امید پیدا کرتے ہیں کہ Upadacitinib مستقبل میں ایلوپیشیا ایریاٹا کے علاج کا ایک مؤثر آپشن بن سکتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ اگر مزید شواہد سے دوا کی افادیت اور حفاظت ثابت ہوتی ہے تو اس سے دنیا بھر میں اس بیماری سے متاثرہ لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، خصوصاً ان مریضوں کو جن کے لیے موجودہ علاج مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔