لندن:ایک 97 سالہ ڈاکٹر نے اپنی طویل اور صحت مند زندگی کے تجربات شیئر کرتے ہوئے ایسے بنیادی اصول بتائے ہیں جن پر عمل کر کے ہر عمر کے افراد اپنی صحت بہتر بنا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھاپے میں بھی بیماریوں سے بچنا ممکن ہے، بشرطیکہ انسان اپنی روزمرہ عادات میں سادہ مگر مو¿ثر تبدیلیاں لے آئے غیر منافع بخش تنظیم ”سینئر کیئر“ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جسم کو متحرک رکھنا، دماغ کو مسلسل استعمال کرنا اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا لمبی عمر کے اہم عوامل ہیں۔ یہ اصول نہ صرف بزرگ افراد بلکہ نوجوانوں کے لیے بھی یکساں فائدہ رکھتے ہیںانہوں نے جسمانی سرگرمی کو بھی لازمی قرار دیا اور بتایا کہ وہ اپنی عمر کے باوجود روزانہ ہلکی پھلکی ورزش اور وزن اٹھانے کی عادت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اس عمل سے پٹھے مضبوط رہتے ہیں اور بڑھتی عمر میں کمزوری اور ہڈیوں کے مسائل میں کمی آتی ہے۔ ماہرین بھی اس بات سے متفق ہیں کہ باقاعدہ ورزش نہ صرف نیند کو بہتر بناتی ہے بلکہ ذہنی دباو¿ کم کر کے توانائی کو برقرار رکھتی ہے دماغی صحت کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ ذہن کو غیر فعال نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ان کے مطابق مسلسل سیکھنے اور ذہنی مشقوں سے یادداشت بہتر رہتی ہے اور بڑھاپے میں ذہنی کمزوری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ کتابیں پڑھنا، پہیلیاں حل کرنا یا کوئی نیا ہنر سیکھنا اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے ڈاکٹر کے مطابق مناسب مقدار میں پانی پینا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی گردوں کے مسائل کو جنم دے سکتی ہے، جبکہ مناسب پانی جسم سے فاضل مادوں کے اخراج اور خون کی روانی کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ تحقیق سے بھی ثابت ہوا ہے کہ پانی کا درست استعمال دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرتا ہے۔