پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہیں: ڈاکٹر ثاقب انصاری

کراچی:سندھ میں 12 سال گزرنے کے باوجود خون کے مرض تھیلیسیمیا کے خاتمے کے لیے منظور کردہ قانون پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا اور اسی طرح 2023 میں مصنوعی ڈبے کے بچوں کے دودھ کی کھلے عام فروخت پر پابندی کا قانون بھی آج تک نافذ نہیں ہوسکاماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایا کہ پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا میجر کا شکار ہیں، ان بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے سالانہ 24 لاکھ سے زائد خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے، ہر بچے کو ماہانہ 2خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کرانے کا مقصد یہ تھا کہ نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ یقینی بنایا جائے اور اس ٹیسٹ کی رپورٹ کو نکاح نامہ کے ساتھ منسلک کیا جائے لیکن بدقسمتی 12 سال گزرنے کے باوجود اس ایکٹ پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا ملک میں کسی بھی بل یا ایکٹ کو منظور کروانے میں حکومت اور عوام کے کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں کیونکہ بل کی منظوری کے لیے اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا جاتا ہے، جس پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، حکومت اسمبلی سے بل منظور کروالیتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام نظر آتی ہے سندھ اسمبلی نے 2013 میں سندھ پریونیشن اینڈ کنٹرول آف تھیلیسیمیا ایکٹ منظور کیا تھا جس کا مقصد سندھ خون کے مرض تھیلیسیمیا کا خاتمہ کرنا تھا، تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے جو تھیلیسیمیا کے والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہے، والدین اگر تھیلیسیمیا مائنر کا شکار ہوں تو دو یا تین میں سے ایک بچہ تھیلیسیمیا میجر کا مرض لے کر پیدا ہوتا ہے، اس بیماری میں تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچے کو ہر ماہ انتقال خون کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جو کہ ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔