پاپ میوزک کے لیجنڈ مائیکل جیکسن کی جائیداد ایک بار پھر قانونی تنازع کی زد میں آگئی ہے، جہاں چند افراد نے بچوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال سے متعلق سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کردیا ہے غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیشچو خاندان سے تعلق رکھنے والے بہن بھائی ایڈورڈ، ڈومینک، میری نکول اور ایلڈو نے دعویٰ کیا ہے کہ مائیکل جیکسن نے کم عمری میں انہیں اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے ذہنی طور پر قابو میں رکھا اور ان کا استحصال کیاقانونی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ مبینہ واقعات کئی برسوں تک دنیا کے مختلف مقامات پر پیش آتے رہے، یہاں تک کہ بعض متاثرین کی عمر سات یا آٹھ سال تھی مائیکل جیکسن کی جائیداد کے وکیل مارٹی سنگر نے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کیشچو خاندان دو دہائیوں سے زائد عرصے تک خود جیکسن کی بے گناہی کی حمایت کرتا رہا اور اب اچانک یہ الزامات لگانا محض بھاری رقم حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے تاہم درخواست کے مطابق متاثرہ افراد کی ملاقات گلوکار سے اپنے والد کے ذریعے ہوئی تھی، جو ایک ایسے ہوٹل میں کام کرتے تھے جہاں مائیکل جیکسن اکثر قیام کیا کرتے تھے۔ مزید کہا گیا کہ بعض مواقع پر یہ مبینہ واقعات اس وقت بھی پیش آئے جب گلوکار اپنے بچوں کے ہمراہ متاثرین کے گھر آئے وکیل کے مطابق جیکسن کی جائیداد کی مالی کامیابی میں اضافے کے بعد مدعیان نے پہلے بھی بھاری معاوضے کا مطالبہ کیا تھا اور دھمکی دی تھی کہ رقم نہ ملنے پر وہ سنگین الزامات عوام کے سامنے لائیں گے۔