امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد امریکی مالیاتی خدمات کا شعبہ ممکنہ سائبر حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ پر چلا گیا ہے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایک فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اس صورتحال نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران سے منسلک عناصر امریکی مالیاتی نظام کو سائبر حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیںماہرین اور صنعت سے وابستہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جغرافیائی تنازعات کے دوران عموماً سائبر خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے، اسی لیے مالیاتی ادارے اپنے نظام کی کڑی نگرانی کر رہے ہیںرائٹرز کے مطابق مالیاتی صنعت کی نمائندہ تنظیم سِفما کے منیجنگ ڈائریکٹر ٹوڈ کلیس مین کا کہنا ہے کہ صنعت ہر وقت سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے خدشات بڑھ جائیں ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ امریکی سرمایہ جاتی منڈیوں کی سالمیت اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے مالیاتی خدمات کا شعبہ امریکا کے اہم بنیادی ڈھانچے کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جس میں ادائیگیوں کا نظام، کلیئرنگ اور سیٹلمنٹ سسٹمز، تجارتی پلیٹ فارمز اور ٹریڑری مارکیٹس شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شعبہ سائبر حملہ آوروں کے لیے ایک اہم ہدف تصور کیا جاتا ہے کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی مارننگ اسٹار ڈی بی آر ایس نے بھی خبردار کیا ہے کہ عالمی بینکوں اور اثاثہ جاتی منیجروں کے لیے سب سے بڑے خطرات بالواسطہ ہو سکتے ہیں