اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اب پہلے سے بہتر معاشی پوزیشن میں ہے اور معاشی بہتری کا تسلسل رواں مالی سال میں بھی جاری ہے۔لیڈرز ان اسلام آباد بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری آئی ہے، ترسیلات زر میں مضبوط اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ کو فائدہ ہورہا ہے جبکہ آئی ٹی برآمدات بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ملک پائیدار اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے ماڈل کی جانب بڑھ رہا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان امداد پر مبنی تعلقات سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ تجارتی و سرمایہ کاری روابط بڑھانا، سرمایہ کاروں کو متحرک کرنا اور تجارتی تعلقات میں توسیع حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کی واضح سمت متعین کردی ہے۔ برآمد کنندگان کو 4.5 فیصد کی شرح پر ری فنانس فراہم کیا جارہا ہے، حالانکہ پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہے۔ روایتی برآمدی شعبوں کو مزید مسابقتی بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ گزشتہ مالی سال پاکستان کی جی ڈی پی نمو تقریباً 3.7 فیصد رہی اور رواں مالی سال بھی معاشی ترقی کی رفتار برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے دوران جی ڈی پی نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کا تخمینہ دیا ہے اور پاکستان پائیدار معاشی ترقی کے ماڈل کی جانب پیش قدمی کررہا ہے۔دوسری جانب وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان ہائی کمیشن لندن کے زیر اہتمام پاکستان انویسٹمنٹ راؤنڈ ٹیبل کا انعقاد کیا گیا، جس میں لندن کے معروف سرمایہ کاروں اور عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد اور برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ٹیپو عثمان بھی اس موقع پر موجود تھے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے بھرپور کوششیں کررہی ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں اصلاحات کے ذریعے نجی شعبے کو زیادہ مواقع دینے پر بھی توجہ مرکوز ہے۔ حکومت کی مالی پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، بجٹ خسارے میں کمی اور حکومتی آمدن میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مالی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری اداروں میں اصلاحات کے ساتھ نجکاری کے عمل کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، مالی معاملات میں شفافیت اور کاروبار میں آسانی کے اقدامات سے معیشت مزید مستحکم ہوگی۔ معاشی ترقی کے لیے ٹیکس بیس کو وسیع کرنا اور ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔ ٹیکس حکام کے صوابدیدی اختیارات ختم کردیے گئے ہیں اور ٹیکس کے معاملے میں کسی کے ساتھ خصوصی رعایت نہیں برتی جارہی۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں آنے والے شدید سیلاب اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں دوبارہ اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے تمام جائزے مقررہ وقت پر کامیابی سے مکمل کیے ہیں، جبکہ ملک کی کریڈٹ ریٹنگ میں 3 مرتبہ بہتری بھی آئی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق بعد ازاں سوال و جواب کے سیشن میں وزیر خزانہ نے مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے گفتگو کی، جس میں پاکستان کی معیشت، سرمایہ کاری کے ماحول اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سوال و جواب کے دوران مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے دستیاب مواقع پر بھی گفتگو کی گئی۔