گزشتہ سال سے کرکٹ میں وائیڈ بال کے قانون کو مزید منصفانہ بنانے کے لیے نئے ضابطے وضع کیے گئے تھے۔اس قانون کا مقصد ان گیندوں پر باؤلرز کو ریلیف دینا ہے جب بیٹر گیند ہونے سے قبل یا دوران اپنی پوزیشن تبدیل کرتا ہے۔تاہم بیشتر شائقین کو اب بھی اس قانون سے متعلق واضح طور پر علم نہیں ہے اور اکثر لوگ کشمکش کا شکار رہتے ہیں کہ کون سی بال وائیڈ کیوں قرار دی گئی اور کون سی وائیڈ بال کیوں نہیں دی گئی۔نئے قانون کے تحت وائیڈ کا فیصلہ کرنے کے لیے بیٹر کی ٹانگوں کی پوزیشن کو بنیاد بنایا گیا ہے، چاہے گیند کے دوران وہ آف سائیڈ کی جانب منتقل ہو جائے۔ اگر گیند پاپنگ کریز سے گزرتے وقت لیگ اسٹمپ اور پروٹیکٹڈ ایریا مارکر کے درمیان سے گزرے گی تو اسے وائیڈ قرار نہیں دیا جائے گا۔امپائرز کی رہنمائی کے لیے پروٹیکٹڈ ایریا کی لائن کو پاپنگ کریز تک بڑھایا دیا گیا ہے۔ تاہم بیٹر کی ٹانگوں کے پیچھے سے گزرنے والی اور مقررہ لائن سے باہر لیگ سائیڈ کی گیند وائیڈ ہو سکتی ہے۔اس حوالے سے پاکستان ویمنز ٹیم کی سابق کپتان ثناء میر نے ایک ویڈیو میں پچ پر کھڑے ہو کر آسان الفاظ میں وضاحت پیش کی ہے تاکہ شائقین کو یہ نیا قانون سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ عالمینقشے دیکھیں