Fri, September 11, 2026 6:19 pm

شوگر کی ابتدائی علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا مہنگا پڑسکتا ہے

ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون میں گلوکوز کی مقدار معمول سے بڑھ جاتی ہے اور اس کا تعلق صرف زیادہ میٹھا کھانے سے نہیں بلکہ کئی دیگر عوامل سے بھی ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس عام پائی جاتی ہے، لیکن اس کی ابتدائی علامات بعض اوقات اتنی معمولی ہوتی ہیں کہ لوگ انہیں نظر انداز کردیتے ہیں۔جسم خوراک سے حاصل ہونے والے گلوکوز کو توانائی کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ انسولین وہ ہارمون ہے جو لبلبہ بناتا ہے اور گلوکوز کو جسم کے خلیات تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ جب جسم مناسب مقدار میں انسولین نہ بنا سکے یا خلیات انسولین کے خلاف مزاحمت کرنے لگیں تو خون میں شوگر بڑھنے لگتی ہے۔ذیابیطس کی ابتدائی علامات میں غیر معمولی بھوک اور مسلسل تھکاوٹ شامل ہوسکتی ہے۔ اگر جسم گلوکوز کو مؤثر انداز میں توانائی میں تبدیل نہ کرپائے تو انسان کو بار بار بھوک لگنے کے ساتھ کمزوری اور تھکن بھی محسوس ہوسکتی ہےبار بار پیشاب آنا بھی ایک اہم علامت ہوسکتی ہے۔ خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے پر جسم اضافی گلوکوز کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں معمول سے زیادہ مرتبہ پیشاب آسکتا ہے اور جسم سے پانی بھی زیادہ خارج ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے پیاس میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔منہ کا خشک رہنا اور جلد پر خارش بھی جسم میں پانی کی کمی سے جڑی علامات میں شامل ہوسکتی ہیں۔ زیادہ پیشاب آنے کے باعث جسم میں سیال کی کمی ہوجائے تو منہ خشک ہونے کے ساتھ جلد میں خشکی اور خارش پیدا ہوسکتی ہے۔پیروں یا ٹانگوں میں مسلسل درد بھی ایسی علامت ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ صرف ٹانگوں کا درد ذیابیطس کی حتمی نشانی نہیں سمجھا جاسکتا۔اسی طرح بغیر کسی واضح وجہ کے تیزی سے وزن کم ہونا بھی توجہ طلب علامت ہوسکتی ہے۔ جب جسم گلوکوز کو مناسب طریقے سے توانائی کے طور پر استعمال نہیں کرپاتا تو وہ توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے جسم میں موجود دیگر ذخائر استعمال کرسکتا ہے، جس سے وزن میں کمی اور تھکاوٹ محسوس ہوسکتی ہے۔یہ علامات ذیابیطس کی جانب اشارہ کرسکتی ہیں، تاہم ان میں سے کسی ایک علامت کی موجودگی سے بیماری کی حتمی تشخیص نہیں ہوتی۔ شک کی صورت میں خون کے ٹیسٹ اور ڈاکٹر سے طبی مشورہ ضروری ہے۔