وزیراعظم فی الوقت سعودی عرب کا دورہ نہیں کررہے، دورہ بعد میں الگ سے ترتیب دیا جائے گا

وزیراعظم شہبازشریف فی الوقت سعودی عرب کا دورہ نہیں کررہے، ان کا دورہ سعودی عرب بعد میں الگ سے ترتیب دیا جائے گا۔قبل ازیں ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ دورہ کے دوران وزیراعظم کی اعلی سعودی حکام سے اہم ملاقاتیں ہوں گی، ملاقاتوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری ،دفاعی تعاون سمیت دیگرامور پر بات چیت ہوگی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی اعلی سعودی حکام سے ملاقاتوں میں اہم فیصلے کئے جائیں گے، اس موقع پر پاکستان میں سرمایہ کاری اور سعودی عرب کے ساتھ جاری دفاعی معاہدوں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب میں ہونے والی ملاقاتوں میں سعودی اور پاکستانی اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ جانا تھا، تاہم موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث اس حوالے سے پیش رفت فی الحال رکی ہوئی ہے۔گزشتہ روز سے پاکستان کی پوری ٹیم سیکرٹری خارجہ کی قیادت میں سوئٹزرلینڈ میں موجود ہے، جبکہ جنیوا میں پاکستانی مشن، پاکستانی میڈیا اور دیگر متعلقہ حکام بھی وہاں موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث سوئٹزرلینڈ میں اس وقت کسی نئی پیش رفت کا امکان نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ جب تک لبنان کے معاملے پر اسرائیل کے ساتھ کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک مزید پیش رفت مشکل ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مفاہمتی یادداشت کو باضابطہ معاہدے میں تبدیل کرنے کے لیے 60 روز کا وقت دستیاب ہے۔ ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اسرائیل امریکا کے ٹیکس کے پیسوں پر چل رہا ہے اور وہ امن معاہدے کو تباہ کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پوری صورتحال میں پاکستان کا مقصد بطور ثالث فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنا تھا، جس میں پاکستان کامیاب رہا ہے۔ فیلڈ مارشل اور حکومت کی پوری کوشش رہی کہ خطے سمیت دنیا بھر میں امن قائم ہو، اور اس سلسلے میں پاکستان کو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔