نئی قسم کی سلائڈنگ فرکشن متعارف:سائنسدانوں کی نئی دریافت نے 300 سال پرانا قانون توڑ ڈالا

سائنس دانوں کی نئی دریافت نے 300 برس سے زیادہ عرصے سے درست سمجھے والے قانون کو غلط ثابت کردیا یونیورسٹی آف کونسٹانز کے سائنس دانوں نے ایک بالکل نئی قسم کی سلائڈنگ فرکشن رگڑ کی نشاندہی کی ہے تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ رگڑ ہمیشہ وزن کے ساتھ نہیں بڑھتی جیسا کہ ایمنٹنز لا میں بتایا جاتا ہے بلکہ جب اندرونی نظام میں مقناطیسی ترتیب جب خراب ہوجاتی ہے تو فرکشن اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے 300 برس سے ایمنٹنز لا کے تحت یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ رگڑ کا براہ راست تعلق اس بات سے ہے کہ دو سطحوں کو کتنی طاقت سے دبایا جا رہا ہے اور اس کی مثال عام زندگی میں بکثرت ملتی ہے جیسے کہ بھاری اشیاکا ہلایا جانا مشکل جبکہ کم وزن اشیا کو باآسانی ہلایا جا سکتا ہے اس امکان کی جانچ کے لیے محققین نے ایک ٹیبل ٹاپ تجربہ ترتیب دیا، جس میں آزادانہ طور پر گھومنے والے مقناطیسی عناصر کی دو جہتی قطار کو ایک دوسری مقناطیسی تہہ کے اوپر رکھا گیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ دونوں تہیں کبھی براہِ راست ایک دوسرے کو چھوتی نہیں تھیں، پھر بھی ان کے درمیان مقناطیسی تعامل ایک قابل پیمائش رگڑ کی قوت پیدا کر رہا تھا۔