سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت 51ویں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) پالیسی بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی منظوری دے دی گئی اجلاس میں صوبائی وزراءسمیت ناصر حسین شاہ، ضیا الحسن لنجار اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ تقریباً 1.5 کلومیٹر طویل یہ ملٹی لین پل بھاری ٹریفک اور پیدل افراد کے لیے علیحدہ راستوں پر مشتمل ہوگا، جبکہ اس سے روزانہ ہزاروں گاڑیوں کے دباو¿ میں کمی آئے گی اجلاس کو بتایا گیا کہ لینس ڈاو¿ن پل پر روزانہ 30 ہزار سے زائد گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے جبکہ بھاری ٹریفک پر پابندی کے باعث مسائل بڑھ رہے ہیں وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے کے لیے پروجیکٹ ڈویلپمنٹ فسیلٹی اور ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کی تقرری کی بھی منظوری دی، منصوبہ پی پی پی ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گااجلاس میں شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے پر بھی بریفنگ دی گئی، جو 88 فیصد مکمل ہو چکی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ نے اسے اپریل 2026 تک فعال کرنے کی ہدایت جاری کی مزید برآں سموں گوٹھ میں سولر اسٹریٹ لائٹس، کاٹھوڑ انٹرچینج کے فزیبلٹی اسٹڈی اور بہتر رابطہ سڑکوں کے منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔