آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے تعلق رکھنے والے شہری نے مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے اپنے بیمار کتے کے لیے کینسر کا نہ صرف علاج دریافت کیا بلکہ ویکسین بھی بنا ڈالی پال کونینگھم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور بائیولوجی یا طب کے شعبے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے پال کے پالتو کتے کو جان لیوا کینسر تشخیص ہوا تھا سرجری اور کیموتھراپی جیسے روایتی علاج ٹیومرز کو روکنے میں ناکام رہے تھے آسٹریلوی شہری پال کونینگھم نے ’چیٹ جی پی ٹی‘ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پالتو کتے کی جان بچالی۔ ان کی تیار کردہ ویکسین کو انسانی علاج کے لیے استعمال پر بھی تحقیق کی جارہی ہے اس مقصد کے لیے پال نے اپنی جیب سے 3 ہزار ڈالر خرچ کر کے یونیورسٹی آف نیو ساو¿تھ ویلز کے ’راماچی اوٹی سینٹر فار جینومکس‘ سے روزی کے ڈی این اے کی سیکوینسنگ کروائی یونیورسٹی کے سائنسدان پال کے ڈیزائن کردہ ڈیٹا سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس تجرباتی ویکسین کو تیار کرنے اور لگانے میں ان کی مدد کی انہوں نے اس صورت حال میں مصنوعی ذہانت کی مدد لینے کا فیصلہ کیا اور ’چیٹ جی پی ٹی‘ کا استعمال کرتے ہوئے کینسر کے ممکنہ علاج تلاش کیے اور پھر جدید ٹولز کی مدد سے اپنے کتے کے کینسر کے لیے ایک مخصوص ویکسین کا ڈیزائن تیار کیا ویکسین لگنے کے چند ہفتوں کے اندر ہی روزی کا ایک بڑا ٹیومر 50 فیصد تک سکڑ گیا اور اس کی صحت میں حیرت انگیز بہتری دیکھی گئی۔