ویانا: پاکستانی فن کی نمائش، موسیقی کا کنسرٹ اور بریگیٹ نیوباکر کے نایاب مجموعے کی نمائش

ویانا: پاکستانی ثقافتی ورثے کے ایک جشن کے طور پر، ہفتہ 7 نومبر 2026 کو (شام 4:00 بجے) ویانا کے ‘ویلٹ میوزیم’ (Weltmuseum Wien، ہیلڈن پلاٹز، 1010 ویانا) میں ایک موسیقی کے کنسرٹ اور محترمہ بریگیٹ نیوباکر (جو ایک فنکارہ ہیں اور 1990 سے 2001 تک پاکستان/افغانستان میں اقوام متحدہ کی عہدیدار رہ چکی ہیں) کے نایاب مجموعے کی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ نمائش کے مہمان خصوصی سفیر پاکستان محمد کامران اختر تھے۔ اس موقع پر انٹرنیشنل کمیونٹی،پاکستانی کمیونٹی کے عہدے داران اراکین آرٹ کے شائقین، طلبہ اور مورخین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر اپنے خصوصی خطاب میں سفیر پاکستان محمد کامران اختر نے سب سے پہلے دلی طور پر تمام ثقافتی فنکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ مزید سفیر پاکستان کا کہنا تھا۔ کہ پاکستان کا ثقافتی ورثہ کثیر الجہتی تہذیب و تمدن سے مزین ہے۔اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ثقافتی ورثہ سماجی تنوع اور اسکے ماضی کا امین ہے حال کی عکاسی کرتا ہے اور مستقبل کا ضامن ہے۔ سفیر پاکستان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور آسٹریا کے عوام کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے میں پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی نمائش مذاکروں، ثقافتی تقریبات اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کے ورثے اور ثقافت کو اجاگر کرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو فروغ دے رہی ہے۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ سفارت خانہ پاکستان، ہمیشہ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا تاکہ پاکستان اور آسٹریا کے درمیان سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مضبوط ہوں۔ مزید ان کا کہنا تھا کہ یہ کلیکشن پاکستان سے باہر، بالخصوص یورپ میں، پاکستانی ثقافت اور عصری آرٹ کے فروغ کا ایک بڑا ذریعہ رہا ہے۔ اس مجموعے کی نمائشیں ماضی میں ویانا (Palais Pálffy – 2007) اور آسٹریا کے دیگر ثقافتی مراکز میں منعقد ہو چکی ہیں، جہاں سلیمہ ہاشمی نے خود بھی مضامین کے ذریعے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اب اس کا پہلی بار عوامی سطح پر اتنے بڑے پیمانے پر سامنے آنا آرٹ کے شائقین، طلبہ اور مورخین کے لیے ایک نادر موقع تھا کہ وہ پاکستان کے ان چار ستونوں کے فن کا آغاز اور ان کی فکری بنیادیں دیکھ سکیں۔ پاکستان کا ثقافتی ورثہ کثیر الجہتی تہذیب و تمدن سے مزین ہے۔ ۔ ہمارا ورثہ انسانی تخلیقی صلاحیت اور تنوع کی خوبصورت مثال ہے، نمائش کے دوران بین الاقوامی شہرت یافتہ 1990 کی دہائی کے عصری شاہکاروں کی نمائش سلیمہ ہاشمی۔ قدوس مرزا، انور سعید اور راشد رانا کی جانب سے جو کہ پہلی بار عوامی نمائش میں پاکستانی ثقافت اور فنکارانہ ورثے کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرنے والی پینٹنگز اور فن پاروں کا مجموعہ پیش کیا گیا۔برگیٹ نیوباچر کلیکشن (Brigitte Neubacher Collection) پاکستانی معاصر فن (Contemporary Art) کا ایک انتہائی نایاب اور تاریخی مجموعہ ہے، جو 1990 کی دہائی کے ان مایہ ناز شاہکاروں کو محفوظ کیے ہوئے ہے جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستانی ثقافتی ورثے اور جدید آرٹ کی پہچان بدل کر رکھ دی۔ پہلی بار عوامی نمائش کے لیے پیش کیا جانے والا یہ مجموعہ سلیمہ ہاشمی، قدوس مرزا، انور سعید، اور راشد رانا جیسے پاکستان کے سب سے بااثر فنکاروں کی ابتدائی اور انقلابی بصیرت کا عکاس ہے۔1990 کی دہائی کا دور پاکستانی فنونِ لطیفہ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک سیاسی اور سماجی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا، اور فنکار روایتی اور مینی ایچر (Miniature) تکنیکوں کو جدید، گہرے اور بیانیہ انداز میں ڈھال رہے تھے۔ برگیٹ نیوباچر کا یہ مجموعہ اسی دور کی فکری اور فنی پختگی کو یکجا کرتا ہے۔جن خصوصی فنکاروں نے اس میں شرکت کی ان میں سلیمہ ہاشمی نامور مصور، آرٹ ایجوکیٹر، اور فیض احمد فیض کی صاحبزادی۔ ان کا کام سماجی و سیاسی شعور اور انسانی حقوق کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس دور میں انہوں نے پاکستانی عصری آرٹ کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کیوریٹریل کردار ادا کیا۔قدوس مرزا ممتاز مصور، آرٹ نقاد اور این سی اے (NCA) کے سابق پروفیسر۔ ان کا انداز بچوں کے آرٹ اور تجریدی عناصر سے متاثر ہے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں لندن کے رائل کالج آف آرٹ سے وابستگی اور متعدد بین الاقوامی گروپ شوز کا حصہ بنے۔انور سعید معاصر آرٹ کے ایک منفرد استاد اور مصور جن کا کام انسانی نفسیات اور وجودی سوالات پر مبنی ہوتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور کے بعد پیدا ہونے والے سماجی اور سیاسی اثرات کو کینوس پر بے باکی سے منتقل کیا۔راشد رانا پاکستان کے سب سے نامور نیو میڈیا اور ڈیجیٹل آرٹسٹ۔ انہوں نے روایتی پینٹنگ سے ہٹ کر فوٹوگرافک موزیک کی دنیا میں نام کمایا۔ 1990 کی دہائی کے اواخر (1999-2000) میں ان کی مشہور ‘Non-Sense’ سیریز سامنے آئی، جو پینٹنگ سے نیو میڈیا کی طرف ان کے سفر کا آغاز تھی۔ شامل تھے۔نمائش کے اختتام پر لوگوں نئے سفیر پاکستان اور فنکاروں کے ساتھ تصویریں اور ان خوبصورت لمحوں اور ثقافتی رنگوں کو اپنے پاس کیمروں میں محفوظ کیا۔ نمائش کے بعد محفل موسیقی کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی ستار نواز اشرف شریف خان اور ہیمبرگ میں مقیم الیکٹرانک پروڈیوسر و ڈی جے وکٹر ماریک نے انتہائی پرجوش ’فیوژن‘ (مختلف اصناف کے امتزاج) طرزِ موسیقی پیش کرتے ہوئے جسے ’صوفی ڈب‘ (Sufi Dub)، روایتی جنوبی ایشیائی کلاسیکی راگوں کو الیکٹرانک بیٹس، ہپ ہاپ، ایسڈ اور ڈب موسیقی پیش کرتے ہوئے لوگوں کو جھومنے پر مجبور کر دیا اور خوب داد حاصل کی۔استاد اشرف شریف خان پونچھ والا: پونچھ گھرانے سے تعلق رکھنے والے ستار نواز، جو اپنے والد استاد محمد شریف خان پونچھ والا کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔وکٹر ماریک: ہیمبرگ میں مقیم ڈی جے، پروڈیوسر اور سیمپلنگ کے ماہر، جو اپنی منفرد اور پراسرار ’صوفی سٹیپ‘ (Sufistep) الیکٹرانک ساؤنڈ کے لیے جانے جاتے ہیں۔آسٹریا ویانا میں پاکستانی فن کی نمائش/موسیقی کا کنسرٹ اور محترمہ بریگیٹ نیوباکر (Brigitte Neubacher) کے نایاب مجموعے کی نمائش کا اختتام بہترین یادوں کے ساتھ ہوا۔