لندن : لندن میں پاکستان ہائی کمیشن نے “جموں و کشمیر یومِ سیاہ” منانے کے لیے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا۔اس تقریب میں برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین، جن میں لارڈ قربان حسین، لارڈ شفاق محمد، بیرونس نوشینہ مبارک، رکنِ پارلیمنٹ عدنان حسین، رکنِ پارلیمنٹ افضل خان اور رکنِ پارلیمنٹ ایوب خان شامل تھے، کے علاوہ بڑی تعداد میں برطانوی کشمیریوں، سول سوسائٹی کے کارکنوں اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔اپنے کلیدی خطاب میں، ہائی کمشنر ٹیپو عثمان نے بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے برپا کیے گئے دہشت اور وحشیانہ ظلم و ستم کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وہاں کے عوام ایک شدید اور طویل فوجی محاصرے کا شکار ہیں، جس کے دوران تشدد، جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل عام معمول بن چکے ہیں۔ہائی کمشنر نے زور دیا کہ بھارت کے اقدامات بین الاقوامی قانون اور بنیادی اخلاقیات، دونوں کی خلاف ورزی ہیں اور یہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی خلاف ورزی پر جوابدہ ٹھہرائے جو کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔ ہائی کمشنر عثمان نے برطانوی پارلیمنٹیرینز کی جانب سے پارلیمنٹ اور برطانوی حکومت کے سامنے مسئلہ جموں و کشمیر اٹھانے پر ان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہائی کمیشن، مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے برطانوی پارلیمنٹیرینز اور وسیع تر کشمیری برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔برطانوی پارلیمنٹیرینز اور مہمان مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ اراکینِ پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی دو طرفہ معاملہ نہیں، بلکہ ایک دیرینہ بین الاقوامی تنازعہ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت پر زور دے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو بند کرے اور وہاں آزادانہ اور منصفانہ استصوابِ رائے کرانے کے اپنے بین الاقوامی وعدے کی پاسداری کرے۔