فرینکفرٹ: جرمنی کے شہر نورن برگ میں مرکزی جلسۂ عید میلادالنبی ﷺ جامع مسجد المدینہ دارالسلام میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوا۔ سالانہ میلاد مصطفیٰ ﷺ کانفرنس میں مختلف علماء، مشائخ، نعت خواں حضرات اور عاشقانِ رسول ﷺ نے شرکت کی۔محفل کے مہمانانِ خصوصی میں صاحبزادہ سید علی الاشرفی الجیلانی، پیر سید جعفر علی شاہ سواتی اور صوفی اسکالر مفتی ممتاز حسین پیرزادہ شامل تھے، جبکہ نقابت کے فرائض عبدالعزیز خان نے انجام دیے۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت سید زین الاشرفی الجیلانی نے حاصل کی۔ بعد ازاں عبدالعزیز خان، امجد گوہر، سید زین الاشرف الجیلانی اور علامہ جنید ایوبی نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں خصوصی نعتیہ کلام پیش کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ سید علی الاشرفی الجیلانی نے عشقِ رسول ﷺ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایسی نسبتوں سے وابستہ نہیں کیا جن کی وجہ سے لوگ یہ سمجھیں کہ ان نسبتوں کے باعث آپ ﷺ کو عزت حاصل ہوئی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام چیزوں کو عزت و عظمت حضور اکرم ﷺ کی نسبت سے حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن حضور نبی کریم ﷺ کو مقامِ محمود عطا کیا جائے گا اور آپ ﷺ اپنی امت کی شفاعت فرمائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر دل میں عشقِ نبوی ﷺ کو اجاگر کیا جائے۔سالانہ میلاد مصطفیٰ ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوفی اسکالر مفتی ممتاز حسین پیرزادہ نے کہا کہ قرآنِ کریم نے انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کے مقاصد میں تعلیمِ کتاب و حکمت کے ساتھ تزکیۂ نفوس کو بھی بنیادی حیثیت دی ہے۔ یہی متوازن تربیت انسان کے علم کو عمل، عمل کو اخلاص اور زندگی کو ایمان و کردار کی روشنی عطا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی نسلوں کی دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت چاہتے ہیں اور اپنی اولاد کے ایمان و کردار کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآنی و نبوی تربیتی نظام کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہوگا۔ مساجد، دینی مراکز، قرآن و سنت کی تعلیم اور علماء و مشائخ کی صحبت و رہنمائی انسان کے ایمان کو مضبوط، کردار کو سنوارنے اور روحانی تربیت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔حسنات مرتضیٰ نے آقائے دو جہاں ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، جبکہ علامہ جنید ایوبی نے حضور اکرم ﷺ کے حسن، کمال اور احسانات کو خوبصورت انداز میں بیان کیا۔جرمن زبان میں سہیر علی خان اور زین مسعود نے علمی و فکری گفتگو کرتے ہوئے نوجوان نسل کو عشقِ رسول ﷺ اور ادبِ رسولِ مقبول ﷺ کے احیاء کی طرف متوجہ کیا۔محفل کے اختتامی مرحلے میں پیر سید جعفر علی شاہ سواتی نے خوبصورت نعتیہ کلام پیش کیا، جس سے محفل میں موجود سامعین پر رقت طاری ہوگئی اور کئی آنکھیں اشکبار نظر آئیں۔ درود و سلام کے بعد حسنات مرتضیٰ نے اجتماعی خصوصی دعا کرائی۔اختتام پر شرکائے محفل نے لنگرِ محمدی ﷺ تناول فرمایا۔ جامع مسجد المدینہ دارالسلام کی انتظامیہ کی جانب سے مسجد کے صدر حاجی محمد نذیر، نائب صدر شہباز احمد، عامر خان، عبدالعزیز خان اور حاجی عبدالوحید نے تمام مہمانانِ گرامی، علماء، مشائخ، نعت خواں حضرات اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا