والسال : معروف برطانوی صحافی عرفان احمد فراز نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ مہنگائی، بجلی کے اخراجات، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے مسائل پر محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنے بنیادی حقوق، بہتر سہولیات اور معاشی آسودگی کے خواہاں ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مطالبات کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے حل کے لیے واضح حکمتِ عملی مرتب کرے۔عرفان احمد فراز نے کہا کہ عوامی مسائل کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حل کیا جانا چاہیے۔ حکومت اور عوامی نمائندوں کے درمیان مؤثر رابطہ، شفاف طرزِ حکمرانی اور وعدوں پر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوامی شکایات کا ازالہ مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے کیا جائے۔ پُرامن احتجاج اور اختلافِ رائے کا احترام جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے، جبکہ تمام فریقین کو قانون کی پاسداری اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔معروف برطانوی صحافی نے حکومتِ آزاد کشمیر پر زور دیا کہ وہ عوامی مسائل کے حل، روزگار کے مواقع میں اضافے، تعلیم و صحت کی سہولیات کی بہتری اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ عوامی مطالبات اور حکومتی وعدوں پر پیش رفت کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کن معاملات پر مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔عرفان احمد فراز نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت، سیاسی قیادت اور متعلقہ ادارے عوامی مفاد کو مقدم رکھیں۔ اختلافات کو محاذ آرائی کے بجائے بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم سے حل کیا جائے تاکہ خطے میں سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کو فروغ مل سکے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو سیاسی نعروں اور وعدوں سے زیادہ عملی کارکردگی درکار ہے۔ آزاد کشمیر کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب حکومتی ترجیحات کا مرکز عام آدمی کی فلاح و بہبود، بنیادی حقوق کا تحفظ اور عوامی مسائل کا پائیدار حل ہو۔