پاکستان نے گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات سے متعلق بھارت کے بے بنیاد اور لغو بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت کی جانب سے کیے گئے یہ دعوے حقائق کے منافی اور گمراہ کن پراپیگنڈے کا حصہ ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ ان بھارتی بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور انہیں کسی اہمیت کا حامل نہیں سمجھتا۔پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جموں و کشمیر کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقے پر غیر قانونی طور پر قابض ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے پرانا حل طلب تنازع ہے، جو 1947 میں بھارت کے ریاست جموں و کشمیر پر جبری اور غیر قانونی قبضے سے شروع ہوا۔
پاکستان نے کہا ہے کہ اس تنازع کے منصفانہ اور پائیدار حل کا واحد راستہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد ہے، جن کے مطابق کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے گلگت بلتستان سے متعلق بے بنیاد دعوے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔
بھارتی افواج کو وہاں سخت قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ، ریاستی جبر کی ایک شکل ہے۔پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ علاقے خالی کرے، 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو واپس لےاور آزاد مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا کو زمینی صورتحال تک رسائی دے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت کو کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے استعمال کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔